بره موم (Propolis)

زمرے: دانستنی های زنبور عسل

بره موم (Propolis)

ایسا مادہ جسے شہد کی مکھی درختوں کے شیرہ (گوند) پتوں یا تنوں اور پھولوں کے کنارے پر خاص قسم کے شیرہ سے آمادہ کرتی ہے۔اسے برہ موم کہتے ہیں اس مادہ سے ملکہ کی تخم گذاری کی جگہہ اور شہد کی مکھی کے چھتہ کو آلودگی سے بچانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔اسی طرح شہد کی مکھی کے چھتہ کے شگاف کوموذی حشرات الارض اور میکروب(جراثیم) سے بچانے کے لئے برہ موم سے ڈھانپ دیتے ہیں۔
ہم بھی اس گرانبہا  مادہ سے سماروغی بیماریوں ،رحم کے انفیکشن ،جلد،معدہ اور آنتوں وغیرہ کے علاج کے لئے استعمال کر سکتے ہیں۔
مندرجہ ذیل بیماریوں میں برہ موم (Propolis) کا استعمال کیا جاتا ہے۔
منہ میں خراش ،کان کی سوزش،منہ کی بدبو،ایم اس ،کوّے کی سوزش ،مغز و اعصاب ،غدہ ھیپوفیز(pituitary gland) کے عمل کی تنظیم،بدن کے کمیاب اور نا معلوم  معدنی نمکوں  کی فراہمی،جبڑے اور مسوڑھے کی بیماری،قلبی ریگولیشن،السر، نامعلوم بیماری کی بہتری، پیٹ کے کینسر، بیماریوں کے خلاف جسم کی دفاعی قوت کو بڑھانا، جسم میں کینسر کے ٹیومر کی ترقی کو روکنا،نطفہ اور انڈے کی اموات سے روک تھام، گٹھیا، بواسير، گلے کی سوزش اور انفیکشن، Corns اور زخم،پیشاب کی نالی اور جننانگ اعضاء کی سوزش،اعصابی رگوں کی گرفتگی اور پکڑن، بلڈ پریشر ریگولیشن،عصبی رگوں کے تناؤ میں  بہتری،جسم کے زھر کو ختم کرنا،ہاتھ کانپنے کا علاج،جلد کے امراض، تقویت حافظہ،عمومی نشاط کی ایجاد،دیر سے اچھے ہونے والے زخموں کی بہتری۔

ژلہ رویال (Royal Jelly)

زمرے: دانستنی های زنبور عسل

ژلہ رویال (Royal Jelly)

شہد کی مکھی گردہ گل کھانے کے بعد ( Brain tumors)سے ژلہ رویال (Royal Jelly)  ترشح کرتی ہے۔یہ مادہ فاسد ہوجانے کی وجہ سے 9دن سے زیادہ چھتہ کے اندر نہیں رکھا جاتا. اس مدت میں،کام کارنے والی شہد کی مکھیوں کے لاروا ، نر شہد کی مکھی یا ملکہ اس مادہ سے تغذیہ حاصل کرتی ہیں۔
ژلہ رویال (Royal Jelly) سے غذا حاصل کرنے کے دنوں کی تعداد ان کی قسم کو معین کرنے والی ہے. لاروا جو زندگی کے پہلے تین دنوں میں ژلہ رویال (Royal Jelly) سے غذا حاصل کرتے ہیں کاقم کرنے والی شہد کی مکھیاں ،اور وہ جو پہلے 5دنوں میں اس مادہ سے غذا حاصل کرتے ہیں نر شہد کی مکھیاں ہیں،صرف ملکہ یعنی شہد کی مکھیوں کی رانی ہے جو اس حیات بخش مادہ سے زندگی کے پہلے 9دنوں میں غذا حاصل کرتی ہے۔ .اس کے علاوہ باقی عمر میں شہد کی مکھیوں کی غذا ملکہ کے سوا شہد اور گردہ گل(پھولوں کا صفوف) ہے۔شہد کی مکھیوں کی ملکہ رشد اور خلیات(cells) بنانے اور اپنی نسل بڑھانے ،جنسی قویٰ کو مظبوط کرنے اور طول عمر کے لئے ہمیشہ ژلہ رویال (Royal Jelly)سے غذا حاصل کرتے ہیں. ژلہ رویال (Royal Jelly) کا استعمال شہد کی مکھی میں کارگر شہد کی مکھیوں اور نر کے درمیان شہد کی مکھی کی ملکہ سے اساسی فرق پیدا کرنے کا باعث ہوتا ہے.
انسان بھی ہر عمر میں ژلہ رویال (Royal Jelly)سے غذا حاصل کرسکتا ہے.اسی طرح اس شفا بخش مادہ سے رشد،زیادہ سے زیادہ خلیات(cells) بنانا جنسی قویٰ کی تقویت ،اور تولید مثل اور طول عمر کے لئے استفادہ ہوتا ہے۔. البته بهترہے اس مادہ سے بچوں، نوجوانوں اور بوڑھوں کے لئے کم مقدار میں استفادہ کریں اور اس کی زیادہ مقدار حاملہ اور دودھ پلانے والی عورتوں کے لئے بیحد مفید ہے.

جو بیماریاں ژلہ رویال (Royal Jelly) کے معالجاتی خواص سے صحتیاب ہوجاتے ہیں مندرجہ ذیل ہیں: Larynx کی مشكلات ، پھیپھڑوں کی تقویت، مردوں اور عورتوں میں جنسی قوی(Sexual impotence) کو مظبوط بنانا، بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنا، السر ، قلبی مسائل (Cardiovascular problems)، آنکھوں کی کمزوری، یوٹیرن اور تناسلی انفیکشن ، معدنی نمک کی کمی
( Mineral deficiency) ہڈیوں کے ایک دوسرے پر چڑھ جانا(Bone density)، درد شقیقہ اور سائینس
(Migraine and sinusitis)، ذیابیطس (Diabetes)، جگر کے مسائل (Liver problems)،پیلیا(Jaundice)، bone marrow کا خلیات بنانا، تنگي نفس(Shortness of breath;)، معده میں نفخ (اپھار)، جسم کی عام کمزوری، اعصاب(Nerves)، جسم سے زہر کے اثر کو زائل کرنا(Detoxification of body)،  جوڑوں کی گٹھیا         (Rheumatic heart disease and arthritis)،  پرانے جلنے کے زخم(Old burns)، پھوڑے پھنسی
(Corns and boils)، ام‌اس(MS)، عمیق جلدی بیماری(Deep skin disease)، سیپ کا مرض، اگزما(Eczema)، رحم اور آلت تناسل کا زخم(Uterus and genital ulcers)، بواسير(Hemorrhoid)، تقويت حافظہ
(Strengthen Memory). ژلہ رویال (Royal Jelly) نشاط اور طول کا بھی باعث ہوتا ہے.

پھولوں کے صفوف

زمرے: دانستنی های زنبور عسل

پھولوں کے صفوف

شہد کی مکھی پھول کے صفوف کو پھولوں کی حامل زر کے اوپر سے اپنے پاؤں کی مدد سے چھتہ کے اندر لاتی ہے اور اسے جلدی استعمال کرجاتی ہے. صفوف ذخیرہ کرنے کے لئے اس کی رطوبت نکال کر تجزیہ نا پذیر مسدس ظروف کے اندر سورج کی کرن اور روشنی سے دور رکھتی ہے۔ ظروف کے دروازوں کو بند نہیں کرتی کیونکہ مستقل اس سے استفادہ کرتی ہیں۔اسی طرح ان کے دروازوں کا کھلا رہنا گردہ گل(پھول کے صفوف) کی رطوبت کے بھانپ بننے کا باعث ہوتی ہے .
انسان کو بھی چھتہ سے گردہ گل(پھول کا صفوف) نکالنے کے بعد زود ھنگام تخریب سے بچانے کےلئے اس کے بلافاصلہ رطوبت نکال کر خشک اور ٹھندی جگہ پر سورج کی روشنی سے دور حفاظت کرے.
صحرا میں شہد کی مکھی کافی گردہ گل(پھول کے صفوف) محسوس کرتے ہی تخم گذاری شروع کردیتی اور گردہ گل کے تمام ہوتے ہی روک دیتی ہے۔کیونکہ انڈے رشد کے لئے گردہ گل سے تغذیہ کرتے ہیں اور بہار اور گرمی کے موسم میں گردہ گل نہ ہونے کی صورت میں شہد کی مکھی کی نسل منقطع ہوجائے گی. ملکہ کی تخم گذاری کی کیفیت اور مقدار گردہ گل کے وجود سے براہ راست رابطہ رکھتی ہے گردہ گل کی زیادتی سے ملکہ کے تخم گذاری کی مقدار بھی زیادہ ہوجائے گی۔اسی طرح نرشہد کی مکھیاں جنسی لحاظ سے قوی تر ہوں گی ۔نتیجہ کے طور پر شہد کی مکھی کے ہم جنس کی تولید اور پیداوار میں گردہ گل کا واجود براہ راست رابطہ رکھتا ہے.
پس ہمیں بھی سیکھنا چاہیئے اور دو سال سے زیادہ عمر والے بچوں کے رشد اور عورت کے حاملہ ہونے سے پہلے اور بعد تقویت ،دودھ پلانے والی ماؤں ،نوجوانوں کے رشد اور جنسی قویٰ کے ضعف اور حاملہ نہ ہونے جیسی بیماری کو برطرفکرنے اور مردوں کے نطفہ (Sperm)کی زیادتی اور تقویت کے لئے استعمال کریں.
جو امراض گردہ گل کے معالجاتی خاصیتوں سے بہتر ہوجاتی ہیں درج ذیل ہیں:
ذیابیطس (Diabetes)، عمومی کمزوری اور بھوک نہ لگنا اور نامناسب رشد کرنا،‌ خون کی کمی(Anemia)، آئرن کی کمی اور معدنیات ٹریس(Trace minerals)کی بدن میں کمی ، ضروری وٹامن بدن بالخصوص گروپ B کی کمی بدن میں ، بہار کے موسم میں الرجی، موسمی درد شقیقہ (Seasonal migraine)، موٹانا اور دبلا ہونا، پروسٹیٹ کے امراض (Prostate Diseases) ،‌ جگر ، گردے اور مثانے کی تقویت، مردوں میں نطفہ(Sperm) کی مقدار بڑھانے اور قوی کرنا، قوت حافظہ، دماغ کے خلیات ، ہڈیوں کی خلیات(Bone-building cells)، ناقابل علاج زخم ، ہڈیوں کو مضبوط بنانا ، گیسٹرو گرہنی کی کارکردگی بہتر بنانا ، جلد کی اورصدفیہ کی سوجن ، بیماریوں کے خلاف جسم کی دفاعی قوت ، عورتوں کا حاملہ ہونا، اور دودھ پلانے میں ضعف کو برطرف کرنے میں بیحد مفید ہے.

چھتہ کے اندر شہد کی شفا

زمرے: دانستنی های زنبور عسل

چھتہ کے اندر شہد کی شفا

چھتہ کے اندر تولید شدہ شہد کو چند روزہ شہد کی مکھی کے انڈے کو بہتر رشد کرنے کے لئے کھیلایا جاتا ہے. ملكہ حاملہ ہونے سے پہلے اور بعد شہد کا استعمال کرتی ہے۔چونکہ اس حیات بخش مودہ کے استعمال کو اپنے بچوں کے رشد اور معدنی مواد کی تکمیل ،ویٹامینس اور پروٹئین کے لئے ضروری سمجھتی ہے.
چھتہ کے اندر شہد اور اس کا ہمہشہ استعمال ،شہد کی مکھی کو بیماریوں کے حملے سے محفوظ رکھتا ہے. چھتہ میں شہد کی کمی سے اسہال(Diarrhea) قبض اور انفیکشن کی بیماریاں پھیلتی ہیں اور شہد کے استعمال سے ان بیماریوں کا جڑ سے خاتمہ ہو جاتا ہے. بنابر ایں ہم بھی شہد کا استعمال کر کے ان بیماریوں سے محفوظ ہو سکتے ہیں. تحقیقات کے مطابق گردہ گل(پھولوں کے صفوف) کے بغیر خالص شہد بہت ہی کم مقدار میں دو سال سے کم کے بچوں کو کھلانے میں کوئی مشکل نہیں ہے.اسی طرح حاملہ اور دودھ پلانے والی عورتوں کے لئے شہد بیحد مفید ہے.
جو بیماریاں معالجاتی شہد کے خواص سے شفایاب ہوتی ہیں،درج ذیل ہیں: خون کی کمی(Anemia)، آئرن، ٹریس اورنامعلوم معدنیات کی کمی ، اعصاب(Nerves)، گردوں اور مثانے کی سوزش ، موٹاپے اور لاغری کا علاج ، موسمی اور غیر موسمی درد شقیقہ ، السر اور گرہنی ، سرجری کے بعد خوراک کی قلت ،معدہ میں اپھار اور گیس(stomach acid.)،‌ بھوک میں کمی اور بچوں کے رشد اور نمو، ناقابل علاج زخم،جلنا(Burns)، bone marrow کا خلیات بنانا ، بیماریوں کے مقابلے میں دفاعی قوت کا کم ہونا ، مردوں میں نطفہ(sperm) کا کم ہوجانا، عورتوں میں حاملہ نہ ہونے اور دودھ پلانے کی مشکلات، پروسٹیٹ کی سوزش ، گالبلاڈر(gallbladder) کی سوزش ، موسمی الرجی، رحم اور بچہ دانی کی سوزش ، کان، ناک اور گلے کی سوزش، ام‌اس(MS)، دل اور رگوں کی نامنظم کارکردگی اور ضعف، اعصاب کی مشکل(nerve contusion)، جلدی بیماریاں (Skin Diseases)، خون کا گاڑھا ہوجانا اور رگوں کا بند ہوجانا، مسوڑوں کی سوزش، حلق اور ٹانسل (tonsils) کی سوزش ، گٹھیا اور جوڑوں میں درد، بلڈ پریشر ، لبلبہ(pancreas)کا نامنظم طور پر کام کرنا،تھرائیڈ(Thyroid)،‌ آنکھ اور کان کا انفیکشن ، جگر کی بیماریاں ، بالوں کے جھڑنا،  منہ کی بدبو(Halitosis)، جلد کی جھریاں(Wrinkles)، نامناسب طریقہ سے غذا کا ہضم اور جذب کرنا، سانس لینے کی مشکلات(Respiratory disorders)، الرجی اور دمہ (Allergies and Asthma)، معدہ کا مروڑ، رحم اور بچہ دانی کی بیماریاں.

شہد کا استعمال

زمرے: دانستنی های زنبور عسل

شہد کا استعمال

بہار اور گرمی کے موسم میں چھتہ کے سارے ساکنین (نومولود بچے،کارگزار ،نر اور ملکہ) شہد کا ستعمال کرتے ہیں لیکن خزاں اور سردی کے موسم میں بالخصوص سردی میں دیگر نوزاد اور نروں کی کوئی خبر نہیں ہے صرف کارگزار شہد کی مکھیاں اور ملکہ شہد کا استعمال کرتی ہیں۔
پس ہمکو شہد کی مکھیوں سے سیکھنا چاہیئے کہ بہار اور گرمی کے موسم میں بچوں ،حاملہ یا دودھ پلانے والی عورتوں اور مردوں کے لئے بیحد مفید اور مناسب ہے اور خزاں اور جاڑے کے موسم میں کارگزاروں اور لڑکیوں کے لئے بیحد مفید ہے.

شہد کی حفاظت

زمرے: دانستنی های زنبور عسل

شہد کی حفاظت

شہد کی مکھی 10 ° سے37 ° میں شہد کی حفاظت کرتی اور اس کی حرارت میں اضافہ ہونے سے مانع ہوتی ہے. شہد کی مسدس برتن میں اور تاریک جگہ پر سورج کی روشنی سے دور حفاظت ہوتی ہے. یہ شہد ایک سے چند دنوں تک شہد کی مکھی کے لئے کافی ہے۔
یہ مسدس برتن «شان» کی تشکیل دیتے ہیں کہ بہار(Spring) اور گرمی میں کھلے اور بند صورت میں اور خزاں اور سردی میں فقط بند صورت میں شہد کی مکھیوں کے استعمال کا مورد ہوتا ہے۔  یہ ظروف«موم» نامی مادہ سے بنایا گیا ہے جو طبیعت (قدرتی ماحول) میں قابل جدائی نہیں ہے(مگر موم خوار کیڑے کے ذریعہ) تو شہد کی قدرتی بناوٹ(Nature) پر نظر کرتے ہوئےبہتر ہے کے ہم بھی شہد کو اسی حرارت اور تاریک جگہ پر رکھیں. کم‌کم شہد کو (چند دن کے استعمال کے بقدر) اور ایسے برتن میں رکھیں جس کا ڈھکن محکم ہو اور تجزیہ نا پذیر(Irresolvable)جیسے شیشہ،پلاسٹیک۔۔۔۔۔ وغیرہ جیسے جنس سے حفاظت کریں اور ڈھکن کو مضبوطی سے بند کریں (تجزیہ سے مراد بکٹریا اور زندہ موجودات کے ذریعہ تجزیہ ہے).

شہد اور اسکی مختلف قسمیں

زمرے: دانستنی های زنبور عسل

شہد اور اسکی مختلف قسمیں

شہد کی مکھی جن مواد کو چھتہ کے اندر لاتی ہے وہ درج ذیل ہے:
1. پھول امرت (شہد).
2. ان جوں(Mealybug) کا فضلہ جو تنہ کے شیرہ کو چوستی ہیں (شہد).
3. تنہ اور پتوں کے ترشح کو(شہد).
شہد مندرجہ ذیل دو قسموں میں تقسیم ہوتے ہیں:
1. مہاجر ایک پھول یا غیر مہاجر پہاڑی یا صحرائی.
2. رنگارنگ مہاجر یا غیر مہاجر پہاڑی یا صحرائی.
شہد کی بہترین قسم ،رنگارنگ غیر مہاجر پہاڑی شہد ہے. اس شہد کا گیاہی رنگارنگ ہونا 10قسم کے پھولوں سے زیادہ ہونا چاہیئے. معمولا 25٪ شہد ایک سے دو قسم کی جڑی بوٹی تشکیل دیتی ہے اور مناسب غلظت رکھتی ہے. ان چھتوں میں بیماری بہت ہی کم ہے اور Chemical دواؤں سےندرت کے ساتھ استعمال ہوتا ہے.شہد کی مکھیوں کے غیر مہاجر ہونے کی بنا پر عام طور سے شہد خزاں یا جاڑے کے موسم میں نکالا جاتا ہے. شہد کی مکھی بہترین، بیحد مقوی اور بیکٹریا مخالف اپنا شہد ذخیرہ کرتی ہے اور خود اس کی معمولی ترین قسم کا استعمال کرتی ہے. مرغوب محصول حاصل کرنے کے لئے شہد کی مکھی کی بہار ، گرمی اور خزاں کے موسم میں آخر کارکردگی کے بعد خصوصا جاڑے کے آغاز میں نکالا جائے . یہ شہد اس علاقہ کے مرغوب ترین شہدوں میں ہے کہ چھتہ میں اس کے ذخیرہ کرنے سے جاڑے کے موسم میں کالونی کو کم سے کم نقصان ہوگا۔شہد کی مکھی اسے اپنے اصلی ذخیرہ کے لئے محفوظ رکھتی ہے قابل ذکر ہے کہ اس میں رطوبت کم سے کم ہوتی ہے.
 شکر مخلوط شہد یا صحرائی ایک پھول کا شہد جو کیلوری(Calories) اور اینٹی جراثیم(anti-microbial) ہونے کے لحاظ سے ضعیف ہیں اور بہت تزی کے ساتھ جاڑے کے موسم میں خراب ہونے لگتا ہے.
شہد سے بیماری کہ تغذیہ میں شہد کی قسموں پر نظر رکھنا چاہیئے شہد علاقائی آب و ہوا کے لحاظ سے دو قسم کا پیدا ہوتا ہے (1) مرطوب اور خشک (2) سرد اور خشک البتہ سرد اور خشک علاقہ کا شہد لذیذ اور مرغوب ترین ہے:
1. 13 سے17 فیصد رطوبت کے ساتھ بہترین قسم کا شہد ہے اور اس شہد میں مکمل پائی جاتی ہے.
2. 17 سے20 فیصد رطوبت کے ساتھ دوا میں استعمال کے لئے مفید ہے.
3. 19 سے23 فیصد رطوبت کے ساتھ نامرغوب اور بہت کم مدت میں خراب ہوجاتا ہے.

شہد کی مکھی جن مواد کو چھتہ کے اندر لاتی ہے وہ درج ذیل ہے:
1. پھول امرت (شہد).
2. ان جوں(Mealybug) کا فضلہ جو تنہ کے شیرہ کو چوستی ہیں (شہد).
3. تنہ اور پتوں کے ترشح کو(شہد).
شہد مندرجہ ذیل دو قسموں میں تقسیم ہوتے ہیں:
1. مہاجر ایک پھول یا غیر مہاجر پہاڑی یا صحرائی.
2. رنگارنگ مہاجر یا غیر مہاجر پہاڑی یا صحرائی.

شہد کی بہترین قسم ،رنگارنگ غیر مہاجر پہاڑی شہد ہے. اس شہد کا گیاہی رنگارنگ ہونا 10قسم کے پھولوں سے زیادہ ہونا چاہیئے. معمولا 25٪ شہد ایک سے دو قسم کی جڑی بوٹی تشکیل دیتی ہے اور مناسب غلظت رکھتی ہے. ان چھتوں میں بیماری بہت ہی کم ہے اور Chemical دواؤں سےندرت کے ساتھ استعمال ہوتا ہے.شہد کی مکھیوں کے غیر مہاجر ہونے کی بنا پر عام طور سے شہد خزاں یا جاڑے کے موسم میں نکالا جاتا ہے. شہد کی مکھی بہترین، بیحد مقوی اور بیکٹریا مخالف اپنا شہد ذخیرہ کرتی ہے اور خود اس کی معمولی ترین قسم کا استعمال کرتی ہے. مرغوب محصول حاصل کرنے کے لئے شہد کی مکھی کی بہار ، گرمی اور خزاں کے موسم میں آخر کارکردگی کے بعد خصوصا جاڑے کے آغاز میں نکالا جائے . یہ شہد اس علاقہ کے مرغوب ترین شہدوں میں ہے کہ چھتہ میں اس کے ذخیرہ کرنے سے جاڑے کے موسم میں کالونی کو کم سے کم نقصان ہوگا۔شہد کی مکھی اسے اپنے اصلی ذخیرہ کے لئے محفوظ رکھتی ہے قابل ذکر ہے کہ اس میں رطوبت کم سے کم ہوتی ہے.
 شکر مخلوط شہد یا صحرائی ایک پھول کا شہد جو کیلوری
(Calories) اور اینٹی جراثیم(anti-microbial) ہونے کے لحاظ سے ضعیف ہیں اور بہت تزی کے ساتھ جاڑے کے موسم میں خراب ہونے لگتا ہے.
شہد سے بیماری کہ تغذیہ میں شہد کی قسموں پر نظر رکھنا چاہیئے شہد علاقائی آب و ہوا کے لحاظ سے دو قسم کا پیدا ہوتا ہے
(1) مرطوب اور خشک (2) سرد اور خشک البتہ سرد اور خشک علاقہ کا شہد لذیذ اور مرغوب ترین ہے:
1. 13 سے17 فیصد رطوبت کے ساتھ بہترین قسم کا شہد ہے اور اس شہد میں مکمل پائی جاتی ہے.
2. 17 سے20 فیصد رطوبت کے ساتھ دوا میں استعمال کے لئے مفید ہے.
3. 19 سے23 فیصد رطوبت کے ساتھ نامرغوب اور بہت کم مدت میں خراب ہوجاتا ہے.

شہد کی مکھیوں کی پیداوار(Production)

زمرے: دانستنی های زنبور عسل

شہد کی مکھیوں کی پیداوار(Production)

شہد کی مکھیوں کی پیداوار
شہد کی مکھیوں کی اصلی پیداوار درج ذیل ہیں: 
1. شہد
2. گرده گل(پھول کا صفوف) 
3. ژلہ رویال(Royal Jelly) یا شاه‌انگبین(King honey)
4. بَره‌موم(Propolis)

شہد کی مکھیوں کی پیداوار
شہد کی مکھیوں کی اصلی پیداوار درج ذیل ہیں:
1. شہد
2. گرده گل(پھول کا صفوف)
3. ژلہ رویال(
Royal Jelly) یا شاه‌انگبین(King honey)
4. بَره‌موم(
Propolis)

شہد کی مکھی سے سیکھیں

زمرے: دانستنی های زنبور عسل

شہد کی مکھی سے سیکھیں

رنگارنگ ،صحیح و سالم اور خالص شہد سے استفادہ کریں شہد بنانے کے کارخانہ میں آلودہ شہد کی شمولیت سے روک تھام کریں ۔شہد اور پھول کی گرد(گردہ گل) کا کم رطوبت کے ساتھ استعمال کریں۔زیادہ رطوبت کی صورت میں ،خرابی سے بچانے کے لئے اس کی رطوبت مناسب حرارت میں رکھیں۔ شہد پیدا ہونے کی جگہہ پر جانے سے پہلے نہادھو لیں اور ہاتھ اور پاؤں کو خوب اچھی طرح دھولیں۔ شہد کے کارخانہ کے اندر بھی حفظان صحت کا خیال رکھیں۔ شہدتیار کرنے کی جگہہ پر متفرق افراد اور موذی حیوانات کی آمد و رفت سے احتیاط کریں ۔عفونت اور چھوت سے بچنے کے لئے شہد تیار ہونے والی جگہہ کو الکحل جیسے مواد سے دھلائی کریں۔باتھ روم شہد تیار کرنے کی جگہہ سے کافی فاصلہ پر ہونا چاہئیے۔ شہد کے کارخانہ میں آلودگی ظاہر ہوتے ہی اس جگہہ کی دھلائی کریں۔نیز افراد اور آلودہ عوامل کو اس جگہہ سے نکال دیں ۔ آلودگی کی شدت کی صورت میں (اس کا ختم کرنا اس درجہ سخت یا نا ممکن ہو )کارخانہ کو کسی دوسری جگہہ منتقل کردیں اور جدید جگہہ پر غیر سالم افراد کو آنے نہ دیں ۔ محصول کی بستہ بندی کرنے میں جدا نہ ہونے والے ظروف کا استعمال کریں ۔اسی طرح مناسب حرارت کیوم اور سیسہ کی مہر کا استعمال کیا جائے۔

شہد کی مکھیوں کے جینے کا طریقہ

زمرے: دانستنی های زنبور عسل

شہد کی مکھیوں کے جینے کا طریقہ

آيۃ  مباركہ« فِطْرَ‌تَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ‌ النَّاسَ عَلَيْهَا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ » اور اسی طرح پیغمبروں پر وحی الہی یعنی قرآن اور دیگر آسمانی کتابوں کے نزول کی بنا پر شہد کی مکھیوں سے جینے کے اعلیٰ مراتب اور درجات کو سیکھا جا سکتا ہے ۔قرآنی آیتوں نے شہد کی مکھیوں کے محصولات (Product) سے شفایاب ہونے کی خبر دی ہے۔
شہد کی مکھیوں کے خانوادہ میں کار آمد اور مفید شہد کی مکھیاں چند گروہ میں تقسیم ہوتی ہیں ،اور ان کے ذمہ مختلف ذمہ داریاں عائد کی جاتی ہیں۔ ایک گروہ بچوں اور ملکہ کو کھانا پہونچاتا ہے تو ایک گروہ شہد کے چھتہ کی صفائی کرتا ہے اور ایک گروہ چھتہ کی نگھبانی اور شہد کی مکھیوں کی آمد و رفت پر نظر رکھتا ہے۔
شہد کی مکھیوں میں جو نر ہوتے ہیں وہ ملکہ سے جوڑ رکھانے کے لئےچھتہ سے باہر نکل کر اور چھتہ سے کافی فاصلہ پر آپس میں ملتے ہیں ۔
شہد کی مکھی اپنا پاخانہ مناسب فاصلہ سے چھتہ سے باہر ڈالتی ہے ۔یہاں تک کہ پت جھڑ اور سردی کے موسم میں ممکن حد تک اپنی حفاظت کرتی ہے تا کہ سورج نکلنے اور نسبتا گرم ہونے پر چھتہ سے بااہر نکل کر اور معین فاصلہ سے اپنا پاخانہ شھتہ سے باہر ڈال دیتی ہے۔

چھتہ کے اندر برہ موم(Propolis) کہ ایک قسم کا الکحل مادہ ہے ،سے Disinfection ہوتا ہے۔ چھتہ کے اندر داخل ہونے کا دروازہ اس طرح سے Disinfection ہو جاتا ہے کہ ہر شہد کی مکھی کے ہاتھ اور پاؤں چھتہ میں داخل ہوتے وقت اس مادہ سے آغشتہ ہو کر نتیجتا  Disinfection   ہو جاتا ہے۔ اگر کوئی شہد کی مکھی شہد جمع کرتےوقت آلودہ ہو گئی ہو یا شہد اور زہریلے صفوف یا آلودہ کا استعمال کرلیا ہو تو چھتہ تک پہونچتے ہی اس کی تفتیش ہوتی اور اندر جانے سے روک دیا جاتا ہے۔ اس طرح چھتہ آلودگی سے محفوظ رہتا ہے۔اگر چھتہ کی آلودگی اس درجہ ہو کہ اس کا برطرف کرنا دشوار یا ناممکن ہو تو سالم اور غیر سالم شہد کی مکھیاں ایک دوسرے سے جدا ہو جاتی ہیں اور سالم شہد کی مکھیاں اپنی ملکہ کے ساتھ ایک جدید چھتہ کی طرف روانہ ہوجاتی ہیں۔
شہد کی مکھیوں کے محصولات(Products) اٹوٹ مومی ظروف (Wax containers inseparability) میں تاریک جگہ پر سورج کی شعاعوں سے دور مناسب حرارت میں ذخیرہ ہوتا ہے۔موم کے یہ ظروف ناقابل دخول دروازہ (Impenetrable doors) رکھتے ہیں ۔ انڈے اور ژلہ رویال(Royal Jelly) اور اس کے بیچ میں شہد، پھول کے صفوف انڈوں کے اطراف میں اور شہد پھول کے صفوف کے اطراف میں ذخیرہ ہوتا ہے.
اگر شہد کی مکھی اپنے انڈوں کو کافی غذا نہ پہونچا سکے یا کسی طرح سے انڈے آلودہ ہوجائیں تو کام کرنے والی شہد کی مکھیاں آلودہ انڈوں کو مسدس کنٹینر(Hexagon container) میں ڈال کر چھتہ سے باہر مناسب فاصلہ پر ڈال دیتی ہیں اور انڈوں کی خالی جگہوں کو برہ موم (Propolis) کے ذریعہ Disinfection کرتی ہیں۔
کام کرنے والی شہد کی مکھیاں چوہے،چونٹی،جنگلی شہد کی مکھی وغیرہ جیسے حیوانات کو چھتہ میں داخل ہونے سے روکتی ہیں۔ یہ مکھیاں اپنے اس کام سے چھتہ میں آلودگی داخل ہونے سے مانع ہوتی ہیں۔کبھی چوہے چھتہ میں داخل ہوجاتے ہیں لیکن بہت زیادہ ڈنک کھانے سےمرجاتے ہیں اس صورت میں شہد کی مکھیاں چوہا اٹھانے سے ناتوان ہونے کی بنا پر انھے Disinfection اور مومیائی کردیتی ہیں۔جو شہد کی مکھیاں چوہوں کو ڈنک مارنے کی وجہ سے مرگئی ہیں انہیں چھتہ سے باہر کردیا جاتا ہے۔
شہد کی مکھی اور گردہ گل (پھول کا صفوف) کی رطوبت نکال کر اس کو طویل مدت میں فاسد ہونے سے محفوظ رکھتی ہے۔ شہد کی مکھی شہد پیدا کرنے کے لئے بہترین کا استعمال کرتی ہے۔ کار کن شہد کی مکھیاں ،نر اور ملکہ ساری کی ساری اس اجتماعی پیداوار کے محصولات سے فائدہ اٹھاتی ہیں۔

 
99٪ کالونی کی کارکردگی کارکن شہد کی مکھیوں کے ذریعہ انجام پاتی ہے۔اس کے بعد کے ملکہ انڈوں کو مسدس کنٹینر
 (Hexagon containers) میں رکھ دیتی ہے تو کارکن شہد کی مکھیاں انہیں 37 ° میں ثابت محفوظ رکھتی ہیں۔کارکن شہد کی مکھیاں جو دربان ہوتی ہیں وہ چھتے سے باہر بہت کم جاتی ہیں اور ان کی غذا کی فراہمی دوسروں کے ذمہ ہوتی ہے۔ چھتہ کے باہر کا درجہ حرارت بڑھنے یا گھٹنے کی صورت میں انڈوں کی حفاظت کرنے کے لئے چھتہ کے اندر کا درجہ حرارت ثابت رکھتی ہیں۔لاروا اور کارکن شہد کی مکھیوں میں اضافہ کے لئے 21 دن ضروری ہے اور اس مدت میں چھتہ کی درجہ حرارت کی حفاظت اور اسے ثابت رکھنا کارکن شہد کی مکھیوں کی ذمہ داری ہے۔ اگر انڈوں کو ایک چھتہ سے دوسرے چھتہ میں اضافہ کردیا جائے تو اگر کارکن شہد کی مکھیاں چھتہ کی حرارت کو ثابت رکھنے پر قادر نہ ہوں گی تو اضافی انڈے نابود اور برباد ہوجائیں گے۔

آيۃ  مباركہ« فِطْرَ‌تَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ‌ النَّاسَ عَلَيْهَا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ » اور اسی طرح پیغمبروں پر وحی الہی یعنی قرآن اور دیگر آسمانی کتابوں کے نزول کی بنا پر شہد کی مکھیوں سے جینے کے اعلیٰ مراتب اور درجات کو سیکھا جا سکتا ہے ۔قرآنی آیتوں نے شہد کی مکھیوں کے محصولات (Product) سے شفایاب ہونے کی خبر دی ہے۔

شہد کی مکھیوں کے خانوادہ میں کار آمد اور مفید شہد کی مکھیاں چند گروہ میں تقسیم ہوتی ہیں ،اور ان کے ذمہ مختلف ذمہ داریاں عائد کی جاتی ہیں۔ ایک گروہ بچوں اور ملکہ کو کھانا پہونچاتا ہے تو ایک گروہ شہد کے چھتہ کی صفائی کرتا ہے اور ایک گروہ چھتہ کی نگھبانی اور شہد کی مکھیوں کی آمد و رفت پر نظر رکھتا ہے۔
شہد کی مکھیوں میں جو نر ہوتے ہیں وہ ملکہ سے جوڑ رکھانے کے لئےچھتہ سے باہر نکل کر اور چھتہ سے کافی فاصلہ پر آپس میں ملتے ہیں ۔
شہد کی مکھی اپنا پاخانہ مناسب فاصلہ سے چھتہ سے باہر ڈالتی ہے ۔یہاں تک کہ پت جھڑ اور سردی کے موسم میں ممکن حد تک اپنی حفاظت کرتی ہے تا کہ سورج نکلنے اور نسبتا گرم ہونے پر چھتہ سے بااہر نکل کر اور معین فاصلہ سے اپنا پاخانہ شھتہ سے باہر ڈال دیتی ہے۔


       چھتہ کے اندر برہ موم(Propolis) کہ ایک قسم کا الکحل مادہ ہے ،سے Disinfection ہوتا ہے۔ چھتہ کے اندر داخل ہونے کا دروازہ اس طرح سے Disinfection ہو جاتا ہے کہ ہر شہد کی مکھی کے ہاتھ اور پاؤں چھتہ میں داخل ہوتے وقت اس مادہ سے آغشتہ ہو کر نتیجتا  Disinfection   ہو جاتا ہے۔ اگر کوئی شہد کی مکھی شہد جمع کرتےوقت آلودہ ہو گئی ہو یا شہد اور زہریلے صفوف یا آلودہ کا استعمال کرلیا ہو تو چھتہ تک پہونچتے ہی اس کی تفتیش ہوتی اور اندر جانے سے روک دیا جاتا ہے۔ اس طرح چھتہ آلودگی سے محفوظ رہتا ہے۔اگر چھتہ کی آلودگی اس درجہ ہو کہ اس کا برطرف کرنا دشوار یا ناممکن ہو تو سالم اور غیر سالم شہد کی مکھیاں ایک دوسرے سے جدا ہو جاتی ہیں اور سالم شہد کی مکھیاں اپنی ملکہ کے ساتھ ایک جدید چھتہ کی طرف روانہ ہوجاتی ہیں۔
       شہد کی مکھیوں کے محصولات(Products) اٹوٹ مومی ظروف (Wax containers inseparability) میں تاریک جگہ پر سورج کی شعاعوں سے دور مناسب حرارت میں ذخیرہ ہوتا ہے۔موم کے یہ ظروف ناقابل دخول دروازہ (Impenetrable doors) رکھتے ہیں ۔ انڈے اور ژلہ رویال(Royal Jelly) اور اس کے بیچ میں شہد، پھول کے صفوف انڈوں کے اطراف میں اور شہد پھول کے صفوف کے اطراف میں ذخیرہ ہوتا ہے.
اگر شہد کی مکھی اپنے انڈوں کو کافی غذا نہ پہونچا سکے یا کسی طرح سے انڈے آلودہ ہوجائیں تو کام کرنے والی شہد کی مکھیاں آلودہ انڈوں کو مسدس کنٹینر(Hexagon container) میں ڈال کر چھتہ سے باہر مناسب فاصلہ پر ڈال دیتی ہیں اور انڈوں کی خالی جگہوں کو برہ موم (Propolis) کے ذریعہ Disinfection کرتی ہیں۔
کام کرنے والی شہد کی مکھیاں چوہے،چونٹی،جنگلی شہد کی مکھی وغیرہ جیسے حیوانات کو چھتہ میں داخل ہونے سے روکتی ہیں۔ یہ مکھیاں اپنے اس کام سے چھتہ میں آلودگی داخل ہونے سے مانع ہوتی ہیں۔کبھی چوہے چھتہ میں داخل ہوجاتے ہیں لیکن بہت زیادہ ڈنک کھانے سےمرجاتے ہیں اس صورت میں شہد کی مکھیاں چوہا اٹھانے سے ناتوان ہونے کی بنا پر انھے Disinfection اور مومیائی کردیتی ہیں۔جو شہد کی مکھیاں چوہوں کو ڈنک مارنے کی وجہ سے مرگئی ہیں انہیں چھتہ سے باہر کردیا جاتا ہے۔
شہد کی مکھی اور گردہ گل (پھول کا صفوف) کی رطوبت نکال کر اس کو طویل مدت میں فاسد ہونے سے محفوظ رکھتی ہے۔ شہد کی مکھی شہد پیدا کرنے کے لئے بہترین کا استعمال کرتی ہے۔ کار کن شہد کی مکھیاں ،نر اور ملکہ ساری کی ساری اس اجتماعی پیداوار کے محصولات سے فائدہ اٹھاتی ہیں۔

 
        99٪ کالونی کی کارکردگی کارکن شہد کی مکھیوں کے ذریعہ انجام پاتی ہے۔اس کے بعد کے ملکہ انڈوں کو مسدس کنٹینر

(Hexagon containers) میں رکھ دیتی ہے تو کارکن شہد کی مکھیاں انہیں 37 ° میں ثابت محفوظ رکھتی ہیں۔کارکن شہد کی مکھیاں جو دربان ہوتی ہیں وہ چھتے سے باہر بہت کم جاتی ہیں اور ان کی غذا کی فراہمی دوسروں کے ذمہ ہوتی ہے۔ چھتہ کے باہر کا درجہ حرارت بڑھنے یا گھٹنے کی صورت میں انڈوں کی حفاظت کرنے کے لئے چھتہ کے اندر کا درجہ حرارت ثابت رکھتی ہیں۔لاروا اور کارکن شہد کی مکھیوں میں اضافہ کے لئے 21 دن ضروری ہے اور اس مدت میں چھتہ کی درجہ حرارت کی حفاظت اور اسے ثابت رکھنا کارکن شہد کی مکھیوں کی ذمہ داری ہے۔ اگر انڈوں کو ایک چھتہ سے دوسرے چھتہ میں اضافہ کردیا جائے تو اگر کارکن شہد کی مکھیاں چھتہ کی حرارت کو ثابت رکھنے پر قادر نہ ہوں گی تو اضافی انڈے نابود اور برباد ہوجائیں گے۔

 

ارتباطی طریقے

دفتر قم کاپتہ:ایران - قم - بلوار محمد امین-بین کوچه 11و13
رابطہ نمبر: 00982532930344 - 00989127553030

  • دانشنامه شفاسنتر
  • فروشگاه عسل حکیم
  • جامعة علوم القرآن

    (function(i,s,o,g,r,a,m){i['GoogleAnalyticsObject']=r;i[r]=i[r]||function(){ (i[r].q=i[r].q||[]).push(arguments)},i[r].l=1*new Date();a=s.createElement(o), m=s.getElementsByTagName(o)[0];a.async=1;a.src=g;m.parentNode.insertBefore(a,m) })(window,document,'script','https://www.google-analytics.com/analytics.js','ga'); ga('create', 'UA-56303368-2', 'auto'); ga('send', 'pageview');