علاج کے لئے شہد انتخاب کرنے کے وجوہات

زمرے: مقالات و پژوهش ها

1. شہد 14٪ رطوبت کے ساتھ فساد سے مانع ہے.
2. شہد 48 گھنٹہ میں جراثیم(Germs) اوربیکٹیریا (Bacteria) کو ختم کردیتا ہے کیونکہ میکروب شہد کے ساتھ اپنی حیات جاری نہیں رکھ سکتا۔
3. شہد رطوبت کو جذب کرتا ہے؛ بنابریں شہد بہت ساری بیماریوں میں کار آمد اور موثر علاج ہے.
4. شہد کے اندر موجود شوگر معمولی ہے اور بہت آسانی کے ساتھ منہ سے گلے اور معدہ کے راستہ سے خون بن جاتا ہے. انسان کے جسم میں شوگر کے سرعت کے ساتھ جذب ہونے کی خاصیت ڈاکٹری علوم میں بے شمار اہمیت کی حامل ہے۔جسم اسے بطور کامل اور کسی کمی اور زیادتی کے بغیر مصرف کرتا ہے اور اس سے بیماری کو شفا بخشنے میں مدد حاصل کرتا ہے۔
5. شہد ایک شفا بخش مادہ ہے جو حیات بخش اور سائیڈ ایفکٹ سے خالی ہے۔اس کا موثر مادہ معجزنما اثر سائیڈ ایفکٹ کے بغیر بیماری کا علاج کرنے میں دکھائی دے گا.

1. شہد کا ڈھیلا ہونا،رس کرنا(شکر میں تبدیل ہونا)،حجمی وزن کا بڑھا ہونا،حد درجہ میٹھاس اور چپکنا وغیرہ ایسے عوامل و اسباب ہیں کہ عام طور سے لوگ اس کی شکایت کرتے ہیں،اسی وجہ سے اس کا تنہا استعمال کرنے اور طویل مدت تک استعمال کرنے سے اجتناب کرتے ہیں جبکہ شہد سے معالجہ کرنے کے لئے شہد کا استعمال کم سے کم 3 ماہ سے6 ماہ تک جاری رکھیں.
2. پھول کے صفوف کا دانہ دار ہونا،اکثر پھولوں کے صفوف میں نا پسندیدہ بو اور مزہ ،ناقص جذب اور جذب ہونے پر معدہ پر دباؤ۔ایسے اسباب اور عوامل ہیں جس کی اکثر لوگوں کو شکایت ہوتی ہے لیکن علاج کے لئے اس کا مصرف 3سے 6ماہ تک 3دن کے فاصلہ سے ہر15روز پر طولانی ہونا چاہیئے.
3. مزہ،ناپسندیدہ بو،سخت ہونے،نگلنے کی مشکلات،ناقص جذب اور ایسا دباؤ جو معدہ پر برہ موم (Propolis) کے جذب ہونے کی وجہ سے آتا ہے۔اس کا تنہا استعمال مانع اور طولانی  مدت کا طالب ہے ۔جبکہ علاج کے لئے 1سے2ماہ تک ایک روز ناغہ کر کے استعمال کیا جائے.
4. ترش اور کھٹا ہونا اور اس کا مسلسل استعمال چوسنے کی حالت میں بعض لوگوں میں خارش یا منہ میں زخم کا باعث ہوتا ہے جس کی اکثر لوگ شکایت کرتے ہیں نتیجہ کے طور پر اس کا تنہا استعمال کرنے سے پرہیز کرتے ہیں.

معالجاتی شہد(Honey therapy)

زمرے: مقالات و پژوهش ها

آج کی دنیا میں موجود معالجہ کے طریقے تین ہیں:
1. گولیاں، کیپسول، سرنج، اور شیاف(Tablets, capsules, syringes, suppositories) جیسے رائج ددواؤں سے رائج علاج تین قسم میں تقسیم ہوتا ہے:
الف. موثر مادہ شیمیایی اور ترکیبی مواد سے تیار کیا گیا ہے.
ب. موثر مادہ ، شیمیایی محصولات اور جڑی بوٹیوں کے عرق سے مخلوط معجون ہے.
ج. موثر مادہ ، جڑی بوٹیوں کا عصارہ ہے جو جڑی بوٹیوں سے شیمیایی محصول کے ہمراہ ہے .
2. گیاہی دواؤں سے علاج جو گل گیا ،جڑ، تنہ ،میوہ اور خشک یا تر دانہ کی صورت میں خشک یا گیاہ کا نچوڑ ،گیاہ کا سیال عصارہ یا قطرہ قطرہ کر کے آمادہ ہوا ہو.
3. شہد سے مخلوط عصارہ گیاہ سے علاج ۔اگر شہد کا موثر مادہ طبیعی طور پر جسم میں جائے تو سایئڈ ایفیکٹ کے  بغیر بہترین دوا ہوگی ۔معالجاتی شہد شفا بخش اور سایئڈ ایفیکٹ کے بغیر ہے ۔ دوا کا پہلی اور دوسری روشوں کے ساتھ علاج کرنے کے لئے معین مدت تک استعمال کرنا چاہیئے ؛ضمنی طور پر 20 ٪ سے 30 ٪ سایئڈ ایفیکٹ ہوگا ۔لیکن تیسری روش میں دوا کے استعمال کی مدت کی جانب توجہ رکھنا ضروری نہیں ہے کیونکہ عصارہ گیاہ سے حاصل شدہ شہد کا استعمال معدہ کے لئے نقصان دہ نہیں ہے اور اس کا کوئی سایئڈ ایفیکٹ بھی نہیں ہے.

مناسب شہد فراہم کرنے اور معالجاتی شہد کے بارے میں بنیادی اصول

زمرے: مقالات و پژوهش ها

1. شہد غیر مہاجر شہد کی مکھیوں کے ذریعہ رنگارنگ پھول سے تولید ہوا ہو اور اس کے معالجاتی خواص بیماری کی قسم کے اعتبار سے مد نظر ہوں.
2. ہر فرد کے لئے استعمال کئے جانے والے شہد کی مقدار علاج کے دنوں میں تنظیم ہو.
3. شہد استعمال کرنے کے لئے دقیق وقت اور ضروری شرائط کا خیال رکھا جائے.
4. استعمال کئے جانے والے شہد کی نسبت جسم کی حساسیت اور الرجی کی تشخیص دی جائے.
5. شہد کی گرمی اور سردی کا خیال رکھا جائے.
6. ممکن حد تک شہد کا درجہ حرارت 37 ° سے زیادہ نہ ہو اسی طرح اس درجہ حرارت میں شہد 15 دن روز سے زیادہ نہ رکھا جائے.
7. شہد بند اور تاریک جگہ(سورج کی روشنی سے دور) رکھا جائے (شہد کی مکھی کی طرح جو شہد کو موم پولک بستہ تاریک چھتہ کے اندر رکھا جائے).
8.خیال رکھنا چاہئیے کہ تولید شدہ شہد مختلف غیر مہاجر شہد کی مکھی سالانہ صرف 1٪ معالجاتی خواص کو ضائع کردیتا ہے ۔یہ نتیجہ پہلے 5 سالوں میں سرعت کے ساتھ 1.5 ٪ ہے اور اس کے بعد ثابت ہو جائے گا نتیجتا پہلے سال میں 1٪  دوسرے سال میں 2.5٪ تیسرے سال 4٪ چوتھے سال 5٪ پانچویں سال 6٪ اور چھٹے سال کے بعد 6 سے7 ٪ معالجاتی شہد کے خواص میں کمی آجائے گی.
9. بچوں کے لئے روزانہ استعمال کی مقدار چائے کے چمچہ سے دو چمچہ اور بڑوں کے لئے کھانے کے چمچے سے 2 سے 10 چمچے خیال رکھا جائے.
10. دو سال سے کم عمر بچوں کے لئے اعلیٰ درجہ کا فیلٹر شدہ شہد سے استفادہ جائے کیونکہ شہد میں گردہ گل اس عمر کے بچوں کے لئے حساسیت (الرجی) ایجاد کرے گا.

گردہ گل(پھول کا صفوف) سے علاج کے اصول اور مناسب گردہ گل (پھول کے صفوف) کی فراہمی

زمرے: مقالات و پژوهش ها

1. شہد کی مکھی کی کالونی مناسب فضا میں رکھی جاے ؛ مثلا سپین (Spain) والے اپنے ملک کے تمام گردہ گل(پھول کے صفوف) کی جمع آوری کرتے اور اس کو ملا کر بازار میں بیچتے ہیں.
2. گردہ (صفوف) کی رطوبت کو بھانپ میں تبدیل کرنے کے لئے 37 ° حرارت سے استفادہ کیا جائے.
3. گردہ گل(پھول کا صفوف) سورج کی روشنی سے دور خشک جگہ پر رکھا جائے اور گرم و خشک آب و ہوا میں 10 دن اور گرم و مرطوب آب و ہوا میں 2 روز فریزر سے باہراسی طرح سرد وخشک آب و ہوا میں 2 ماہ اور سرد و مرطوب آب و ہوا میں 20 دن تک فریزر میں رکھا جائے ۔فریزر میں گردہ گل(پھول کا صفوف) 2سال تک رہ سکتا ہے.
4. بیماروں میں گردہ گل کے استعمال کے لئے بیمار کے گردہ گل سے الرجی نہ ہونے کے لحاظ سے مطمئن ہو جائیں گردہ گل سے الرجی ہونے کی صورت میں بہتر ہے کہ اس کا استعمال نہ کیا جائے یا اس کے ساتھ الرجی کے ضد(Desensitizing) شہد کے معجون کا استعمال کیا جائے.
5.دن میں گردہ گل استعمال کرنے کی مقدار 30 گرام سے زیادہ نہ ہو بہتر ہے کہ ہر 5 دن پر ایک سے دو دن تک گردہ گل کا ستعمال روک دیا جائے.
6. گردہ گل کے استعمال کی بہترین صورت اس لا چبانا ہے ۔اسی طرح پانی کے ساتھ گردہ گل پانی میں ملا کر یا شہد ملا کر استعمال کیا جائے.

برہ موم (Propolis)سے علاج کرنے کے اصول اور بہترین برہ موم کی فراہمی

زمرے: مقالات و پژوهش ها

1. برہ موم (Propolis) کو خشک اور ٹھنڈی جگہ پر رکھا جائے.
2. شہد کی مکھی برہ موم (Propolis) کے علاوہ چھتہ کے اندر دیگر مواد بھی لاتی ہے کہ اسے برہ موم (Propolis) سے جدا ہونا چاہیئے.
3. بہتر ہے کہ برہ موم (Propolis) جڑی بوٹیوں کی بہترین قسموں اور مہاجر اور غیر مہاجر رنگارنگ شہد کی مکھیوں سے ایجاد ہوا ہے.
4. برہ موم (Propolis) تنہا یا شہد اور رائل جیلی(Royal Jelly) سے معین یا گردہ گل کے ساتھ یا چہارگانہ معجون کے ساتھ استعمال کیا جائے.
5. خالص بنانے کے لئے 37 ° حرارت سے زیادہ یا کیمیایی مواد الکحل کے ساتھ کا استعمال نہ کیا جائے.
6. برہ موم (Propolis) کی تنہا شکم پر ہونے کی حالت میں تاکید کی جاتی ہے(شہد استعمال کرنے کے ادھا گھنٹہ بعد).
7. روزانہ بچوں کے لئے برہ موم (Propolis) کا استعمال آدھ گرام سے ایک گرام تک اور بڑوں کے لئے ایک گرام سے 3گرام تک ہے ۔ روزانہ ایک گرام سے دو گرام تک دراز مدت تک اس کا ستعمال طول عمر اور بیماریوں کے مقابلہ میں زیادہ سے زیادہ دفاعی قوت کا باعث ہے.
8. برہ موم (Propolis) کی ایک دوسری خاصیت یہ ہے کہ جسم کے بے حس یا جلے ہوئے اعضاء یا مقامات کو تیزی کے ساتھ اصلی حالت میں بدل دیتا ہے.

کتاب«نوشیدنی های شفابخش» (رژیم ده روزه با عسل) متن کامل + دانلود

زمرے: مقالات و پژوهش ها

متن کامل + دانلود کتاب «نوشیدنی های شفابخش» (رژیم ده روزه با عسل)

شہد کی مکھی کے ڈنک سے معالجہ کرنے کی بنیادی اصول

زمرے: مقالات و پژوهش ها

1. ڈنک لگانے سے پہلے اس بات کی جانچ ہو کہ اس کے ڈنک سے کہیں الرجی تو نہیں ہوتی.
2. 1 سے 60 دنوں تک (کم سے زیادہ) 4 ڈنک سے 50ڈنک کے مقابلہ میں جسم کی تاب لانے کا اندازہ لگایا جائے.
3. ڈنک کے ذریعہ معالجہ کرنے کی پوری مدت میں کھانے کے استعمال کی قسموں کا جاننا بہت اہم ہے.
4.زہر کی تھیلی کا پر ہونا ،ڈنک لگانے کا وقت ،شہد کی مکھیوں کے رہنے کا علاقہ اور ہر علاقہ کا خاص گردہ(صفوف) زپر کی قسم اور قوت میں کافی تاثیر رکھتی ہے.
5. ڈنک کی تعداد ،ڈنک مارنے کا وقت ،ڈنک لگانے کی جگہ اور جس کو ڈنک لگایا جارہا ہے اس کی صلاحیت کا خیال رکھا جائے.
6. ڈنک لگانے والی شہد کی مکھی کو شیشہ کے اندر رکھیئے اور کام ختم ہوجانے کے بعد اسے آزاد کر دیجیئے.

شہد قرآن کی روشنی میں

زمرے: مقالات و پژوهش ها

شہد کے بارہ میں قرآنی آیات مندرجہ ذیل ہیں:
1. سورہ نحل میں (آیات 65 سے 69 تک) ترتیب وار پانی، دودھ، انگور اور کھجور کے شیرہ کے بارے میں نکات پیش کرتی ہیں اور اس کے تسلسل میں پھول کے شہد کے بارے میں گفتگو کرتی ہیں کہ شہد کی مکھی شہد خدا کے حکم سے آمادہ کرتی ہے اور قرآن کریم اسے شفا کہتا ہے۔.
2. در سوره محمد (آیت 15) میں جنت اور جنتی غذاؤں کے بارے میں وعدہ دیا گیا ہے اور پرہیز گاروں سے گفتگو ہے کہ پانی ،دودھ میووں اور خالص شہد کی نہریں ہیں.
3. سوره مُطَفّفین (آیات 18سے28 تک) محمد(ص) اور محمدیون کہ علیّون (علیّین) کہتے جاتے ہیں کے بارے میں اور یہ کہ صالحین بہشت جاودانی کی بے شمار نعمتوں سے مالامال ہوں گے اور ان کے چہروں پر نعیم بہشتی کی نشاط اور شادمانی ظاہر ہے ،کی بات ہوئی ہے۔ انھیں سر بمہر خالص شراب سے سیراب کیا جائے گا۔جس کی مہر مشک کی ہوگی اور ایسی چیزوں میں شوق رکھنے والوں کو آپس میں سبقت اور رغبت کرنی چاہیے اس شراب میں تسنیم کی پانی کی آمیزش ہوگی یہ ایک چشمہ ہے جس سے مقرب بارگاہ  بندہ پانی بپتے ہیں۔
سورہ نحل کی آیتوں میں«شہد» کا کوئی نام ذکر نہیں ہوا ہے لہذا ہر شہد کو شفا نہیں کہا جاسکتا ۔ یہاں پر گفتگو اس مخصوص پھول کے شہد کی ہے جسے قرآن لوگوں کے لئے شفا کہتا ہے۔ صرف سورہ  محمد(ص) میں معین طور پر خالص شہد (مصفی ٰشہد) کا نام لیا گیا ہے۔سورہ مُطَفّفین میں ابرار اور مقربین سے مخصوص شہد کی  بہترین  قسم کا نام لیا گیا ہےاور بہت ہی روشن وضاحت کے ساتھ خوشبو دار اور  جالدار مومی شہد  کو علیون ،ابرار اور مقربین  سے مخصوص جانتا ہے ۔سورہ نحل میں  بیان کردہ شہد میں مندرجہ ذیل ہفتگانہ شرائط ہونی چاہیئے:
1. وَﺃَوحَی‌رَبُّکَ‌ﺇِلَی‌النَّحلِ‌ﺃَنِ‌اتَّخِذِی‌مِنَ‌الْجِبَالِ‌بُیُوتًا‌وَ‌مِنَ‌الشَّجَرِ‌وَ‌مِمَّا‌یَعْرِشُونَ
خداوند عالم نے شہد کی مکھی کو وحی کی کے پہاڑوں ،درختوں کی شگاف اور بلند و بالا گھروں کی چھتوں میں اپنا گھر بنایئں.
2. ثُمَّ‌کُلِی‌مِن‌کُلِّ‌الثَّمَرَاتِ...
اس کے بعد سارے میووں سے کھاؤ... (پروردگار فرماتا ہے شہد کی مکھی کو جڑی بوٹیوں کی ہر قسم سے غذا حاصل کرنا چاہیئے ۔ ثمرہ گیاھان سے مراد ، پھول اور میوہ شاخہ اور پتوں کا گوند اور پورے سال میں تمام پھولوں کا صفوف ہے.)
3. فَاسلُکِی‌سُبُلَ‌رَبِّکَ‌ذُلُلاً...
پس امر خدا کی پیروی کرتے ہوئے شہد کی مکھی کو مذکورہ مقامات ہر ٹھکانہ بنانا چاہیئے اور صرف گیاہوں کے پھل سے غذا حاصل کریں یہ طرز زندگی ہر آن اور ہر جگہ مکمل طور سے اختیار کیا جائے ۔اس لحاظ سے شہد کی مکھیوں کے جابجا کرنے کی صورت میں غذا حاصل کرے اور قوت افزا غذاؤں ، شیمیائی دواؤں کے استعمال سے بیماریوں کی روک تھام یا اس کے علاج کے لئے شہد کی مکھی کی زندگی کو ہم نے خدا کے فرمائے ہوئے چرخہ سے منحرف کردیا ہے تو پھر حاصل شدہ شہد شفابخش نہیں رہ جائے گا.
4. یَخرُجُ‌مِنم‌بُطُونِهَا...
شہد کی مکھی جڑی بوٹیوں سے جو کچھ غذا حاصل کرتی ہے ۔ مرکز معدہ میں معدوی ترشحات کے ساتھ مخلوط ہو کر شہد کی مکھی کے شکم سے خارج ہوتا ہے ۔آیت کا یہ ٹکڑا شہد کی مکھی کے شکم سے مرکز معدوی کے ترشح شدہ آنزیم کی طرف اشارہ ہے.
5. شَرَابٌ...
کلمہ«نوشیدن»«پینا» 20گرام سے زیادہ سیال چیزوں کے استعمال اور کلمہ «خوردن» «کھانا»کم زیادہ ذروں یا قطروں کے نگلنے پر بدلا جاتا ہے۔پس شفا کے عنوان سے ہر خوراک میں شہد کی مقدار کھانے کے ایک چمچہ سے کم نہیں ہونی چاہیئے.
6. مُخْتَلِفٌ‌ﺃَلْوَانُهُ...
اس عبارت میں اس بات کی اشارہ ہے کہ ہر علاقہ میوہ،پھول،شہد گوند اور گیاھی ڈھکن کی نوع کی روشنی میں خاص شہد کا حاصل شہد ہے.
7. فیهِ‌شِفَآءٌ‌لِّلنَّاسِ
یہ آیت اس بات کی عکاسی کر رہی ہے کہ ہر شہد کا رنگ اس علاقہ کی خاص گیاہی پوشش اور آب و ہوا کا پتہ دیتا ہے۔اس طرح کی اقلیم سے حاصل شدہ شہد ،شفا بخش شہد کی خاصیت کے ساتھ ہے۔. کلمہ«فیہ» اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ شہد کی شفا بخش خاصیت کی حفاظت کے لئے خالی پیٹ صرف شہد استعمال کیا جائے۔بنابر این شہد کا ہر دوسرے مادہ سے مخلوط کرنا شفا بخش خواص میں کمی لاتا ہے.
اس لحاظ سے قرآن کریم اس شہد کو شفا بخش جانتا ہے کہ شہد کی مکھی پہاڑوں کے اندر ، درختوں کے درمیان اور انسان کے بنائے ہوئے(چھتہ) شہد کا اس خاص علاقہ کے پھولوں ،میوہ جات اور گردہ گل (پھولوں کا صفوف) سے غذا حاصل کرکے پورے میں پیدا کیا ہوا اسی طرح شفا کے عنوان سے شہد کی مقدار کا استعمال کم سے کم کھانے کے چمچے سے ایک چمچہ خالی پیٹ ہے۔اسی طرح ہر علاقہ کا شہد انسان کے لئے خاص خاصیتوں کا حامل ہے.

شہد کے بارہ میں قرآنی آیات مندرجہ ذیل ہیں:

1. سورہ نحل میں (آیات 65 سے 69 تک) ترتیب وار پانی، دودھ، انگور اور کھجور کے شیرہ کے بارے میں نکات پیش کرتی ہیں اور اس کے تسلسل میں پھول کے شہد کے بارے میں گفتگو کرتی ہیں کہ شہد کی مکھی شہد خدا کے حکم سے آمادہ کرتی ہے اور قرآن کریم اسے شفا کہتا ہے۔.
2. در سوره محمد (آیت 15) میں جنت اور جنتی غذاؤں کے بارے میں وعدہ دیا گیا ہے اور پرہیز گاروں سے گفتگو ہے کہ پانی ،دودھ میووں اور خالص شہد کی نہریں ہیں.
3. سوره مُطَفّفین (آیات 18سے28 تک) محمد(ص) اور محمدیون کہ علیّون (علیّین) کہتے جاتے ہیں کے بارے میں اور یہ کہ صالحین بہشت جاودانی کی بے شمار نعمتوں سے مالامال ہوں گے اور ان کے چہروں پر نعیم بہشتی کی نشاط اور شادمانی ظاہر ہے ،کی بات ہوئی ہے۔ انھیں سر بمہر خالص شراب سے سیراب کیا جائے گا۔جس کی مہر مشک کی ہوگی اور ایسی چیزوں میں شوق رکھنے والوں کو آپس میں سبقت اور رغبت کرنی چاہیے اس شراب میں تسنیم کی پانی کی آمیزش ہوگی یہ ایک چشمہ ہے جس سے مقرب بارگاہ  بندہ پانی بپتے ہیں۔
سورہ نحل کی آیتوں میں«شہد» کا کوئی نام ذکر نہیں ہوا ہے لہذا ہر شہد کو شفا نہیں کہا جاسکتا ۔ یہاں پر گفتگو اس مخصوص پھول کے شہد کی ہے جسے قرآن لوگوں کے لئے شفا کہتا ہے۔ صرف سورہ  محمد(ص) میں معین طور پر خالص شہد (مصفی ٰشہد) کا نام لیا گیا ہے۔سورہ مُطَفّفین میں ابرار اور مقربین سے مخصوص شہد کی  بہترین  قسم کا نام لیا گیا ہےاور بہت ہی روشن وضاحت کے ساتھ خوشبو دار اور  جالدار مومی شہد  کو علیون ،ابرار اور مقربین سے مخصوص جانتا ہے ۔سورہ نحل میں  بیان کردہ شہد میں مندرجہ ذیل ہفتگانہ شرائط ہونی چاہیئے:
1. وَﺃَوحَی‌رَبُّکَ‌ﺇِلَی‌النَّحلِ‌ﺃَنِ‌اتَّخِذِی‌مِنَ‌الْجِبَالِ‌بُیُوتًا‌وَ‌مِنَ‌الشَّجَرِ‌وَ‌مِمَّا‌یَعْرِشُونَ
خداوند عالم نے شہد کی مکھی کو وحی کی کے پہاڑوں ،درختوں کی شگاف اور بلند و بالا گھروں کی چھتوں میں اپنا گھر بنایئں.
2. ثُمَّ‌کُلِی‌مِن‌کُلِّ‌الثَّمَرَاتِ...
اس کے بعد سارے میووں سے کھاؤ... (پروردگار فرماتا ہے شہد کی مکھی کو جڑی بوٹیوں کی ہر قسم سے غذا حاصل کرنا چاہیئے ۔ ثمرہ گیاھان سے مراد ، پھول اور میوہ شاخہ اور پتوں کا گوند اور پورے سال میں تمام پھولوں کا صفوف ہے.)
3. فَاسلُکِی‌سُبُلَ‌رَبِّکَ‌ذُلُلاً...
پس امر خدا کی پیروی کرتے ہوئے شہد کی مکھی کو مذکورہ مقامات ہر ٹھکانہ بنانا چاہیئے اور صرف گیاہوں کے پھل سے غذا حاصل کریں یہ طرز زندگی ہر آن اور ہر جگہ مکمل طور سے اختیار کیا جائے ۔اس لحاظ سے شہد کی مکھیوں کے جابجا کرنے کی صورت میں غذا حاصل کرے اور قوت افزا غذاؤں ، شیمیائی دواؤں کے استعمال سے بیماریوں کی روک تھام یا اس کے علاج کے لئے شہد کی مکھی کی زندگی کو ہم نے خدا کے فرمائے ہوئے چرخہ سے منحرف کردیا ہے تو پھر حاصل شدہ شہد شفابخش نہیں رہ جائے گا.
4. یَخرُجُ‌مِنم‌بُطُونِهَا...
شہد کی مکھی جڑی بوٹیوں سے جو کچھ غذا حاصل کرتی ہے ۔ مرکز معدہ میں معدوی ترشحات کے ساتھ مخلوط ہو کر شہد کی مکھی کے شکم سے خارج ہوتا ہے ۔آیت کا یہ ٹکڑا شہد کی مکھی کے شکم سے مرکز معدوی کے ترشح شدہ آنزیم کی طرف اشارہ ہے.
5. شَرَابٌ...
کلمہ«نوشیدن»«پینا» 20گرام سے زیادہ سیال چیزوں کے استعمال اور کلمہ «خوردن» «کھانا»کم زیادہ ذروں یا قطروں کے نگلنے پر بدلا جاتا ہے۔پس شفا کے عنوان سے ہر خوراک میں شہد کی مقدار کھانے کے ایک چمچہ سے کم نہیں ہونی چاہیئے.
6. مُخْتَلِفٌ‌ﺃَلْوَانُهُ...
اس عبارت میں اس بات کی اشارہ ہے کہ ہر علاقہ میوہ،پھول،شہد گوند اور گیاھی ڈھکن کی نوع کی روشنی میں خاص شہد کا حاصل شہد ہے.
7. فیهِ‌شِفَآءٌ‌لِّلنَّاسِ
یہ آیت اس بات کی عکاسی کر رہی ہے کہ ہر شہد کا رنگ اس علاقہ کی خاص گیاہی پوشش اور آب و ہوا کا پتہ دیتا ہے۔اس طرح کی اقلیم سے حاصل شدہ شہد ،شفا بخش شہد کی خاصیت کے ساتھ ہے۔. کلمہ«فیہ» اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ شہد کی شفا بخش خاصیت کی حفاظت کے لئے خالی پیٹ صرف شہد استعمال کیا جائے۔بنابر این شہد کا ہر دوسرے مادہ سے مخلوط کرنا شفا بخش خواص میں کمی لاتا ہے.
اس لحاظ سے قرآن کریم اس شہد کو شفا بخش جانتا ہے کہ شہد کی مکھی پہاڑوں کے اندر ، درختوں کے درمیان اور انسان کے بنائے ہوئے(چھتہ) شہد کا اس خاص علاقہ کے پھولوں ،میوہ جات اور گردہ گل (پھولوں کا صفوف) سے غذا حاصل کرکے پورے میں پیدا کیا ہوا اسی طرح شفا کے عنوان سے شہد کی مقدار کا استعمال کم سے کم کھانے کے چمچے سے ایک چمچہ خالی پیٹ ہے۔اسی طرح ہر علاقہ کا شہد انسان کے لئے خاص خاصیتوں کا حامل ہے.

شہد غذائیت اور اسلامی طب میں

زمرے: مقالات و پژوهش ها

خداوند عالم کی جانب سے دین مبین اسلام میں صرف اور صرف قرآن اور شہد کو شفا کہا گیا ہے۔ جسمانی اور روحانی شفا کی خدا ، قرآن اور شہد سے درخواست کے بارے میں مندرجہ ذیل آیات میں ذکر ہوا ہے .
قَدْ جَاءَتْكُم مَّوْعِظَةٌ مِّن رَّ‌بِّكُمْ وَشِفَاءٌ لِّمَا فِي الصُّدُورِ‌ (الهی شفا)
وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْ‌آنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَرَ‌حْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِينَ (قرآني شفا)
يَخْرُ‌جُ مِن بُطُونِهَا شَرَ‌ابٌ مُّخْتَلِفٌ أَلْوَانُهُ فِيهِ شِفَاءٌ لِّلنَّاسِ (مائدة مبارک شہد کی شفا)
انسان بے چینی اور درماندگي مایوسی اور گھبراھٹ کے موقع پر بلافاصلہ مذکورہ بالا تینوں شفا سے تمسک کرتا ہے. سب سے پہلے خدا سے دعا کرتا ہے کہ وہ اسے اس بیماری (مشکل اور اضطراب) سے نجات دیدے؛ دوسرے اس حکم کے مطابق اس گرفتاری سے نجات کے لئے تعلیماتی قرآن پڑھتا ہے اور اس کی رہنمائی سے بہتر طریقہ سے مدد حاصل کرتا ہے اور اس پر عمل کرتا ہے؛ تیسرے اسی ذات اقدس کے حکم سے مشہد (اور حیاتی شفا بخش دسترخوان) سے استفادہ کرتا ہے.
یہ تینوں ہی درخواست در حقیقت خدا سے درخواست ہیں. جس طرح سورج کی روشنی ہم سب پر پڑتی ہے اور اگر ہم اپنی آنکھیں کھلی رکھیں تو ہم اسے دیکھ لیں اور اگر ہم اپنی آنکھیں بند رکھیں تو اس کا ادراک نہیں کر پایئں گے، شہد کے بارے میں بھی اگر ہمارے پاس توحیدی اور رسالتی تقویٰ نہیں ہوگا اور ہم اس آسمانی دسترخوان کے بارے میں کفران نعمت کریں اور آلودہ اور کثیف ہاتھوں سے اس کا استعمال کریں یا صحیح استعمال نہ کرکے اسے خراب کر ڈالیں تو پھر ہمیں مطلق شفا کی امید نہیں رکھنی چاہیئے.
تجربے سے ثابت ہوچکا ہے کہ ہر انسان کا (خواہ مسلمان ہو یا غیر مسلمان) شہد کے شفا بخش ہونے پر یقین رکھنا شفا بخشنے میں سو فیصد مؤثر ثابت ہوگا اسی طرح اس کے شفا بخش نہ ہونے کا یقین اس کے اندر شفا نہ بخشنے کا اثر رکھے گا اور اگر اس کی کوئی تاثیر ہوگی بھی تو وہ محسوس نہیں کر پائے گا.

شہد اور سلامتی قرآن کی روشنی میں

زمرے: مقالات و پژوهش ها

سورہ مبارکہ عبس کی 17 سے 24 آیتیں نعمت الہیٰ کی ناشکری ،خلقت اور انسان کی موت کے بارے میں ہیں. اس ٹکڑے کے تسلسل میں ارشاد ہوتا ہے«ہم نے اس کے لئے راہ کو آسان بنا دیا » اور تاکید کرتا ہے کہ جو کچھ انسان کو حکم دیا گیا  ہے اس نے انجام نہیں دیا اور مزید تاکید کے ساتھ فرماتے ہیں«پس انسان کو اپنے استعمال کی غذا کے بارے میں غور کرنا چاہیئے». اس کے بعد سالم نعمتوں ،اشیائے خورد و نوش ،بڑے بڑے باغوں کی بہترین اور پسندیدہ ہواؤں اور چراگاہوں کے بارے میں گفتگو کرتا ہے.
سورہ مبارکہ نحل کی 69 آیت سے ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ شہد بہترین شفا بخش اور حیاتی مادہ ہے:
ثُمَّ كُلِي مِن كُلِّ الثَّمَرَ‌اتِ فَاسْلُكِي سُبُلَ رَ‌بِّكِ ذُلُلًا ۚ يَخْرُ‌جُ مِن بُطُونِهَا شَرَ‌ابٌ مُّخْتَلِفٌ أَلْوَانُهُ فِيهِ شِفَاءٌ لِّلنَّاسِ ۗ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُ‌ونَ (نحل / 69).
سورہ مبارکہ عبس پر توجہ کرتے ہوئے فوق الذکر آیت میں زیادہ غور فکر کرنا چاہیئے. اشیاء خورد و نوش اور سالم ہوا اسی طرح استعمال کی دوائیں سورہ مبارکہ عبس میں تاکید کے پیش نظر اور دیگر قرآنی آیات کی روشنی میں سورہ اعراف کی 157ویں آیت میں ذکر ہوا ہے:
َيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ (اعراف / 157).
«ان کےلئے حلال ہوتا جو کچھ پاک و پاکیزہ اور تازہ ہے.»
سورہ مبارکہ کہف میں غذا کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے:
فَلْيَنظُرْ‌ أَيُّهَا أَزْكَىٰ طَعَامًا (کہف / 19).
«پس غور کرو کے کون سی غذا زیادہ پاکیزہ ہے.»
صحیح و سالم اور بہترین اشیاۓ خورد ونوش کا انتخاب اور مرغوب ہوا لینا اسی طرح کم از کم سائیڈ ایفیکٹ والی دواؤں کا استعمال سورہ عبس اور مذکورہ بالا دو آیتوں کا نمایاں مضمون ہے۔ شہد صحیح و سالم غذا کا بہترین نمونہ ہے کہ اس کا کھانا قوت بخش اور اس کی بھانپ لینا روح افزا اور شفا بخش ہے. شہد سائیڈ ایفیکٹ کے بغیر ایک شفا بخش دوا ہے سورہ مبارکہ اعراف کی 157 ویں آیت میں ذکر ہوا ہے :
وَيُحَرِّ‌مُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ (اعراف / 157).
«جو کچھ ناپاک اور آلودہ ہے اس کا استعمال ان کے لئے حرام ہے.»
منجملہ اشیاء خورد و نوش اور آلودہ ہوا و آلودہ دوا یا بہت زیادہ  سائیڈ ایفیکٹ والی دوا انسان کے لئے نقصان دہ ہے. لیکن شہد میں کسی قسم کی کوئی آلودگی نہیں ہوتی اور اس میں میکروب زندہ نہیں رہ سکتے. قرآن نے شہد کو شفا دی ہے ،یعنی شہد پسندیدہ لذیذ غذا اور سائیڈ ایفیکٹ کے بغیر شفا بخش ایک دوا ہے .
سورہ بقرہ کی آیت 219 میں آیا ہے :
وَإِثْمُهُمَا أَكْبَرُ‌ مِن نَّفْعِهِمَا ۗ (بقره /219).
یہ آیت شراب اور جوے کی نہی کی علت کے بارے میں ہے اور یہ کہ اس کا نقصان اس کے فائدہ سے زیادہ ہے. نقصان دہ چیزوں کے کھانے اور پینے سے منع کرنا اور یہ کہنا کہ اس کا نقصان نفع سے زیادہ ہے اس آیت میں ایک قرآنی قانون ذکر ہوا ہے۔قرآن شہد کی طرف شفا کی نسبت دیتا ہے ۔کیونکہ اس کا کھانا اور پینا انسان کے لئے ہر گز ضرر رساں نہیں ہوگا. بقدر شفا کی غرض سے اس کا استعمال کسی بیمار کے لئے نقصان دہ نہیں ہوگا یہ خود ہی سورہ مبارکہ اعراف کی اس آیت کا واضح مصداق ہے:
َكُلُوا وَاشْرَ‌بُوا وَلَا تُسْرِ‌فُوا (اعراف / 31).
«کھاو پیو اور اسراف نہ کرو.»
انسان کو جسم کی ضرورت کی لحاظ سے دوا،غذا اور پینے کی چیزوں کا استعمال کرنا چاہیئے خداوند عالم نے اندازہ سے زیادہ ہر چیز کے استعمال سے روکا ہے اور سورہ مبارکہ تکاثر لی پہلی آیت میں ارشاد فرماتے ہیں:
أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ‌ (تکاثر / 1).
«ہم تمہیں ہر چیز میں زیادہ روی سے منع کرتے ہیں.»
یہ آیت شہد کو بھی شامل ہوگی مناسب مقدار میں شہد کھانا تا کہ پینے کی چیزوں کا مصداق ہو(جس طرح سورہ مبارکہ نحل میں ذکر ہوا ہے) ضروری ہے کم سے کم ہر خوراک میں 20گرام شہد کا استعمال کیا جائے تجربہ سے ثابت ہوا ہے ہر قسم کے شہد کے استعمال کا معیار انواع واقسام بیماریوں کی شفا کے لئے کھانے کے چمچے سے 1 سے 10  چمچہ روزانہ معین ہے اور یہ امر سورہ مبارکہ نحل میں شہد کے استعمال کا نمایاں مصداق ہے .
سورہ مبارکہ نحل کی 144ویں آیت میں ذکر ہوا ہے:
فَكُلُوا مِمَّا رَ‌زَقَكُمُ اللَّـهُ حَلَالًا طَيِّبًا (نحل / 114).
«کھاو جو کچھ خدا نے تمہیں رزق دیا ہے حلال اور پاکیزہ»
خداوند عالم نے قرآن میں بعض چیزوں کے کھانے کو حرام قرار دیا ہے اور سالم رہنے کے لئے ان غذاؤں کے استعمال سے پرہیز کرنا چاہیئے،ہمیں حلال وحرام،سالم و غیر سالم اپنی غذا سے آگاہ ہونا چاہیئے.
سورہ مبارکہ بقرہ کی آیت 195ویں میں ارشاد ہوتا ہے:
وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ (بقره / 195)
«اپنے ہاتھوں اپنے کو ہلاکت میں نہ ڈالو.»
اس آیت نے سلامتی ،صحیح و سالم زندگی گذارنے اور خود کو ہلاکت میں نہ ڈالنے کی اہمیت کو واجب جانا ہے۔ کھانے اور پینے کی ایسی چیزوں سے ممانعت کی گئی ہے جو ایک دن بھی انسان کی عمر کے کم ہونے کا باعث ہیں۔آلودہ ہوا لینا ،سیگریٹ جیسی چیزوں کا استعمال اور ایسی دوائیں جو عمر کم ہونے کا باعث ہوتی ہیں سے ممانعت کی گئی ہے .
پس بہتر ہے کہ ہم شہد جیسے شفا بخش مادہ کا استعمال کریں تا کہ طولانی عمر کریں ،پائیدار سلامتی حاصل کریں اور بلند و بالا مقام سے بہرہ مند ہوں ۔ہر چند کے زمان و مکان ،مقدار ،قسم ،کیفیت اور اس کے استعمال کے انجام کے بارہ میں غور و فکر کریں تا کہ جب تک مذکورہ بالا 5 گانہ شرائط میں شہد کی سلامتی سے مطمئن نہ ہوں اس کے کھانے پینے اور سونگھنے سے پرہیز کتیں اسی طرح اس کا ایک دوا کے عنوان سے استعمال نہ کریں ۔بہتر ہے قرآن کریم میں بیان شدہ مخصوص شرائط کے ساتھ شہد کا استعمال کریں.

وزن بڑھنے اور گھٹنے میں شہد کی تاثیر

زمرے: مقالات و پژوهش ها

کھانے کے قبل اور بعد شہد کے ذریعہ اپنا وزن برقرار رکھیئےکھانے سے پہلے شہد کا استعمال دبلا کرتا ہے اور کھانے کے بعد موٹا کرتا ہے.کھانے کے قبل اور بعد شہد کے ذریعہ اپنا وزن برقرار رکھیئےکھانے سے پہلے شہد کا استعمال دبلا کرتا ہے اور کھانے کے بعد موٹا کرتا ہے.

جوڑوں کے گٹھیا اور ورم (Rheumatoid arthritis and osteoarthritis) پر شہد کا اثر

زمرے: مقالات و پژوهش ها

جوڑوں کے گٹھیا(Rheumatoid arthritis) تین طرح کے محصول(Product) کا استعمال کرنا چاہیئے:
1. ایسا نامیاتی شہد(organic honey) جو ایسے علاقہ میں پیدا ہوا ہو جہاںشہد کی مکھی نے شقائق(Anemone flower) اور جنگلی پھولوں سے کھانا کھایا ہو.
2. پھولوں کا شیرہ برہ موم (Propolis)اور رویال ژلہ(Royal jelly) (حكيم C) کو مخلوط کر کے استعمال کریں۔
3. جنگلی شقائق (Anemone wild)اور جنگلی شہد کے عرق کا مخلوط (ایسا عرق جس میں 14٪ گاڑھاپن ہو اسے شقائق کا شہد کہتے ہیں)
جوڑوں کے معمولی گٹھیا یا ابتدایی مرحلوں کا علاج
کھانے کے چمچے سے بھر کر ایک چمچہ نامیاتی شہد(organic honey) بالخصوص کردستان کے شہد کا استعمال اس طرح کے گٹھیے کو صحیح کرنے کا باعث ہوتا ہے۔علاج کا کورس 6 مہینہ ہےپہلے 30 دنوں میں علاج ترک کرنے پر تیزی کے ساتھ بیماری پلٹ جاتی ہے.
جوڑوں کے پرانی گٹھیا کی بیماری(Chronic articular rheumatism)
            جوڑوں کے پرانی گٹھیا (Chronic articular rheumatism) کے بیمار جو  کورتیزون(Cortisone)اور دیگر                                 ایلو پیتھ(Chemical)دواؤں کے عادی ہوچکے ہیں وہ روزانہ ایک بار (حکیم C )اور شقائق شہد (Honey Anemone )  کو مخلوط کر کے استعمال کریں۔(ان میں سے ہر ایک کھانے کے چمچے سے ایک چمچہ)علاج کے لئے صبح کھانے کے چمچے سے ایک چمچہ بھر کر کردستان کا شہد اور صبح سے دوپہر تک میں (حکیمC ) کا معجون ایک چمچہ بھر کر کھائیں۔اور دوپہر سے رات تک کے درمیان ایک کھانے کا چمچہ شقائق کا شہد(Honey Anemone) اور رات کو ایک چمچہ کردستان کا شہد استعمال کریں۔ 
مریض شقائق کے شہد(Honey Anemone) اور حکیم C کے ساتھ ساتھ کورتیزون(Cortisone) کی گولیاں بھی استعمال کرسکتا ہے،اور آہستہ آہستہ کورتیزون(Cortisone) کی گولیاں کھانے میں کمی لائیں اور شہد کی مکھی کے محصولات(Product) کو جسم کا عادی بنائیں اور کورتیزون(Cortisone) کی جگہ دیں .جسم کو گرم رکھنا ،جہاں تک ممکن ہو جسم کو پرطوب ہونے اور نمی سے بچانا ،ہاتھ منہ دھونے کے لئے ٹھنڈے پانی سے پرہیز(خواہ ہاتھ ہی کیوں نہ دھوئیں،) گرم اور خشک علاقہ میں زندگی گذارنا مریض کے دردوں کو آرام بخشنے میں بیحد معاون ہوگا.
گٹھیا کے لئے مناسب کھانا مندرجہ ذیل ہیں:
صبح اور رات خالی پیٹ میں کھانے کے چمچے سے ایک چمچہ کردستان کا شہد اور ایک کھانے کا چمچہ حکیمC  کے ساتھ استعمال کریں.
اس ترکیب سے پروگرام کو جاری رکھنے کے بعد ایک مہینہ کے اندر آہستہ آہستہ صحتیابی پر نظر رکھتے ہوئے دواوں کی مقدار کم کردیں۔بیماریوں کی علامتوں کے بہبود ہونے کی صورت میں دوا کا استعمال روک دیجیئے اور صرف مذکورہ اوہر بیان کئے گئے پروگرام سے استفادہ کریں.

جوڑوں کے گٹھیا(Rheumatoid arthritis) تین طرح کے محصول(Product) کا استعمال کرنا چاہیئے:
1. ایسا نامیاتی شہد(organic honey) جو ایسے علاقہ میں پیدا ہوا ہو جہاںشہد کی مکھی نے شقائق(Anemone flower) اور جنگلی پھولوں سے کھانا کھایا ہو.
2. پھولوں کا شیرہ برہ موم (Propolis)اور رویال ژلہ(Royal jelly) (حكيم C) کو مخلوط کر کے استعمال کریں۔
3. جنگلی شقائق (Anemone wild)اور جنگلی شہد کے عرق کا مخلوط (ایسا عرق جس میں 14٪ گاڑھاپن ہو اسے شقائق کا شہد کہتے ہیں)

جوڑوں کے معمولی گٹھیا یا ابتدایی مرحلوں کا علاج
کھانے کے چمچے سے بھر کر ایک چمچہ نامیاتی شہد(organic honey) بالخصوص کردستان کے شہد کا استعمال اس طرح کے گٹھیے کو صحیح کرنے کا باعث ہوتا ہے۔علاج کا کورس 6 مہینہ ہےپہلے 30 دنوں میں علاج ترک کرنے پر تیزی کے ساتھ بیماری پلٹ جاتی ہے.
جوڑوں کے پرانی گٹھیا کی بیماری(Chronic articular rheumatism)
            جوڑوں کے پرانی گٹھیا (Chronic articular rheumatism) کے بیمار جو  کورتیزون(Cortisone)اور دیگر                                 ایلو پیتھ(Chemical)دواؤں کے عادی ہوچکے ہیں وہ روزانہ ایک بار (حکیم C )اور شقائق شہد (Honey Anemone ) کو مخلوط کر کے استعمال کریں۔(ان میں سے ہر ایک کھانے کے چمچے سے ایک چمچہ)علاج کے لئے صبح کھانے کے چمچے سے ایک چمچہ بھر کر کردستان کا شہد اور صبح سے دوپہر تک میں (حکیمC ) کا معجون ایک چمچہ بھر کر کھائیں۔اور دوپہر سے رات تک کے درمیان ایک کھانے کا چمچہ شقائق کا شہد(Honey Anemone) اور رات کو ایک چمچہ کردستان کا شہد استعمال کریں۔ 
مریض شقائق کے شہد(Honey Anemone) اور حکیم C کے ساتھ ساتھ کورتیزون(Cortisone) کی گولیاں بھی استعمال کرسکتا ہے،اور آہستہ آہستہ کورتیزون(Cortisone) کی گولیاں کھانے میں کمی لائیں اور شہد کی مکھی کے محصولات(Product) کو جسم کا عادی بنائیں اور کورتیزون(Cortisone) کی جگہ دیں .جسم کو گرم رکھنا ،جہاں تک ممکن ہو جسم کو پرطوب ہونے اور نمی سے بچانا ،ہاتھ منہ دھونے کے لئے ٹھنڈے پانی سے پرہیز(خواہ ہاتھ ہی کیوں نہ دھوئیں،) گرم اور خشک علاقہ میں زندگی گذارنا مریض کے دردوں کو آرام بخشنے میں بیحد معاون ہوگا.
گٹھیا کے لئے مناسب کھانا مندرجہ ذیل ہیں:

صبح اور رات خالی پیٹ میں کھانے کے چمچے سے ایک چمچہ کردستان کا شہد اور ایک کھانے کا چمچہ حکیمC کے ساتھ استعمال کریں.
اس ترکیب سے پروگرام کو جاری رکھنے کے بعد ایک مہینہ کے اندر آہستہ آہستہ صحتیابی پر نظر رکھتے ہوئے دواوں کی مقدار کم کردیں۔بیماریوں کی علامتوں کے بہبود ہونے کی صورت میں دوا کا استعمال روک دیجیئے اور صرف مذکورہ اوہر بیان کئے گئے پروگرام سے استفادہ کریں.

آنکھوں پر شہد کا اثر

زمرے: مقالات و پژوهش ها

ہر صبح و شام آنکھوں کے اندر شہد کا بنا ہوا نوزل ڈراپ ٹپکانے اور اس کی تکرار کرنے سے مندرجہ ذیل نتائج حاصل ہوتے ہیں:
1. آنکھوں سے خارجی اجسام (دھول اور گندگی،گرد وغبار وغیرہ) کے نکلنے کا سبب ہوتا ہے۔
2. کلورین اور دیگر کیمیکل جو آنکھ میں جلناور سوزش کا سبب بنتے ہیں برطرف ہوجاتے ہیں۔
3. آنکھوں کی صفائی کرتا ہے۔
4. آنکھوں کو موتیابند سے کافی حد تک محفوظ رکھتا ہے۔
 5. آنکھوں کی خشکی برطرف ہوتی ہے۔
6. آنکھوں کو کچڑے سے محفوظ رکھتا ہے۔.
7. آنکھوں کو انفیکشن(Infection) سے محفوظ رکھتا ہے۔
8. آنکھوں کو قوت پہونچاتا ہے ۔آنکھوں کو قوت پہونچانے کے لئے ڈراپ ڈالنے کے بعد پہلے قریب کی چیزوں اور اس کے5سے10 سیکنڈ بعد دور کی چیزوں کو دیکھئے اور اس کام کی چند بار تکرار کیجئے۔ یہ تمرین(Practice) کرنے سے لینس کے ارد گرد کے عضلات کو قوت پہونچتی اور آپکی روشنی بہتر ہوجائے گی ۔بہتر ہے اس تمرین(Practice)  کو مکمل شفایاب ہونے تک جاری رکھیں۔ 

ناک میں شہد کی تاثیر

زمرے: مقالات و پژوهش ها

شہد کا قطرہ سائینس(Sinusitis) کے علاج کی خاطر مندرجہ ذیل ترتیب سے استعمال ہوتا ہے:
- پہلے 5 دنوں میں ناک کے اندر ہر بارہ گھنٹہ پر دو قطرہ ڈالا جائے۔۔۔۔ڈالنے کے بعد 10سے15منٹ تک چت لیٹے رہیئے۔   
- دوسرے 5 روز میں ہر بارہ گھنٹے پر 3سے4قطرہ ناک کے اندر ٹپکایا جائے (اور 10 سے 15 منٹ تک چت لیٹا رہے)
- دوسرے 5 روز میں ہر بارہ گھنٹے پر 5 سے6 قطرہ ناک کے اندر ٹپکایا جائے (اور 10 سے 15 منٹ تک چت لیٹا رہے)
- 15ویں دن سے 20ویں دن تک نوزل ڈراپ (ناک میں ڈالنے والی دوا) کے علاوہ شہد اور پانی کا مخلوط 10سے15 منٹ تک بھاپ بنانے والی مشین کع ذریعہ ٹھنڈا کر کے بھپارہ بھی لیں ۔علاج میں سرعت لانے کے لئے سابق دنوں میں بھی انجام دیں۔ایسا کرنا ناک کی نلیوں کے انفیکشن اور سائینس(Sinusitis) کے ملائم ہونے اور ان کے خارج ہونے کا سبب ہوگا۔
- اس مورد میں شہد کا بنا نوزل ڈراپ استعمال کرنے کے بعد چائے کے چمچ (Spoonful) سے ایک چمچہ ادرک کے عرق سے مخلوط شہدکا  استعمال ضروری ہے۔
- شدید انفیکشن یا سائینس(Sinusitis) کی بیماری کے شدید ہونے پر ہر 6 یا8 گھنٹہ پر ادرک کا شہد چائے کے چمچہ (Spoonful) سے ایک چچمہ کھانے کی طرح 20 روز تک استعمال کریں۔

شہد کی حلق پر تاثیر

زمرے: مقالات و پژوهش ها

آہستہ آہستہ شہد کا چوسنا اور اسے 10 منٹ کے اندر حلق تک پہونچانا اور روزانہ 7 بار کرنا خارجی اجسام کے خارج ہونے اور کوّوں اور حلق کے انفیکشن نا ہونے  اور  انکی صفائی کا باعث  ہوتا ہے ۔البتہ خاص ارگانیک  شہد کا چائے کے چمچہ (Spoonful) سے ایک چمچہ استعمال منہ کی مشکلات کو برطرف کرنے کے لئے بھی مفید ہے ۔زرشک کا چائے کے چمچ (Spoonful) سے ایک چمچ منہ میں رکھنا اور منہ اور حلق کے اندر شہد کا لیپ لگانا ہر 4 سے 6 گھنٹہ تک ایک بار ،منہ کے اندر کی بیماریوں(چھالے، آبلے وغیرہ) علاج کی افادیت کا باعث ہوتا ہے۔

آہستہ آہستہ شہد کا چوسنا اور اسے 10 منٹ کے اندر حلق تک پہونچانا اور روزانہ 7 بار کرنا خارجی اجسام کے خارج ہونے اور کوّوں اور حلق کے انفیکشن نا ہونے  اور  انکی صفائی کا باعث  ہوتا ہے ۔البتہ خاص ارگانیک  شہد کا چائے کے چمچہ (Spoonful) سے ایک چمچہ استعمال منہ کی مشکلات کو برطرف کرنے کے لئے بھی مفید ہے ۔زرشک کا چائے کے چمچ (Spoonful) سے ایک چمچ منہ میں رکھنا اور منہ اور حلق کے اندر شہد کا لیپ لگانا ہر 4 سے 6 گھنٹہ تک ایک بار ،منہ کے اندر کی بیماریوں(چھالے، آبلے وغیرہ) علاج کی افادیت کا باعث ہوتا ہے۔

مردوں کو عقیم ہونے سے بچانے میں شہد کا کرشمہ

زمرے: مقالات و پژوهش ها

تعداد اور قوت میں نطفہ کا ضعف، نطفہ کا دم ‌بریده ہونا، نا قابل رسوخ، جلد مرجانا، نامناسب غلا ظت کا ہونا  و... نطفہ کے بچہ دانی تک پہونچنےسے مانع ہوگا . تین محصولات(products)  حکیم C (صبح)، حکیم E (رات) اور نخل خرما (Palm)کا شہد(دوپہر) ہر ایک کو خالی پیٹ کھانے کے چمچے سے ایک چمچہ 40 دن تک استعمال کریں تو نطفہ(Sperm) کی مشکل حل کرنے میں موثر ہوگا.
استعمال کرنے سے 40دن پہلے اور بعد Test کرائیں تا کہ Test کی Report کا موازنہ کر کے نطفہ(Sperm) کی مشکل حل کرنے میں شہد کی تاثیر معلوم ہو سکے . نطفہ(Sperm) کے طبیعی میزان تک نہ پہونچنے  اور نطفہ(Sperm) کی مشکلات برطرف  نہ ہوونے کی صورت میں 3دن آرام کرنے کے بعد اس معالجہ کی روش کی دوبارہ تکرار کی جائے.
500عقیم مرد اور عورت کے اوپر Test یہ ثابت  کرتا ہے کے اس محصول (products) کا استعمال 90٪ مؤثر رہا ہے۔
جنسی رابطہ (Sexual relationship) کے سلسلہ میں مناسب ماحول اور شرائط فراہم کرنے کے لئے سارے نکتوں کی طرف توجہ دی جائے اور اس پر عمل کیا جائے اسی طرح تخم گذاری (Ovulation)کے زمانے میں حاملہ ہونے کے لئے جنسی رابطہ (Sexual relationship)  برقرار ہو (ماہانہ عادت کے بعد 7سے10دن تک  کہ اس کی علامت جسم کی حرارت ہے۔)

تعداد اور قوت میں نطفہ کا ضعف، نطفہ کا دم ‌بریده ہونا، نا قابل رسوخ، جلد مرجانا، نامناسب غلا ظت کا ہونا  و... نطفہ کے بچہ دانی تک پہونچنےسے مانع ہوگا . تین محصولات(products)  حکیم ‌C (صبح)، حکیم E (رات) اور نخل خرما (Palm)کا شہد(دوپہر) ہر ایک کو خالی پیٹ کھانے کے چمچے سے ایک چمچہ 40 دن تک استعمال کریں تو نطفہ(Sperm) کی مشکل حل کرنے میں موثر ہوگا.

استعمال کرنے سے 40دن پہلے اور بعد Test کرائیں تا کہ Test کی Report کا موازنہ کر کے نطفہ(Sperm) کی مشکل حل کرنے میں شہد کی تاثیر معلوم ہو سکے . نطفہ(Sperm) کے طبیعی میزان تک نہ پہونچنے  اور نطفہ(Sperm) کی مشکلات برطرف  نہ ہوونے کی صورت میں 3دن آرام کرنے کے بعد اس معالجہ کی روش کی دوبارہ تکرار کی جائے.
500عقیم مرد اور عورت کے اوپر Test یہ ثابت  کرتا ہے کے اس محصول (products) کا استعمال 90٪ مؤثر رہا ہے۔
جنسی رابطہ (Sexual relationship) کے سلسلہ میں مناسب ماحول اور شرائط فراہم کرنے کے لئے سارے نکتوں کی طرف توجہ دی جائے اور اس پر عمل کیا جائے اسی طرح تخم گذاری (Ovulation)کے زمانے میں حاملہ ہونے کے لئے جنسی رابطہ (Sexual relationship)  برقرار ہو (ماہانہ عادت کے بعد 7سے10دن تک  کہ اس کی علامت جسم کی حرارت ہے۔)

عمل انہضام کے سیسٹم(Digestion system)پر شہد کی تاثیر

زمرے: مقالات و پژوهش ها

عمل انہضام(Digestion system) کی بیماریوں  کے علاج کے لئے شہد کا استعمال کیا جاسکتا ہے ۔ عمل انہضام(Digestion system) کی بیماریاں تین حصوں میں تقسیم ہوتی ہیں:
1. معدہ کی بیماریاں
2. اثني‌عشر(گرہنی)کی بیماریاں
3. آنت کی بیماریاں
نفخ اور اپھار ،رفلکس ،زخم ،چپکن اور آنتوں کی پیچش
ارگانیک پہاڑی شہد(Organic mountain honey) (پہاڑوں میں موجود مخصوص پھولوں کے شیرہ سے بنتا ہے) سے علاج کا کورس شروع ہوتا ہے۔
استعمال کرنے کا طریقہ مندرجہ ذیل ہے:
صبح:ایک کھانے کا چمچہ شہد اور ایک چمچہ چائے کے چمچےسے شہد اور5٪ برہ موم (Propolis) کا مخلوط  .
رات: دوکھانے کا چمچہ شہد اور ایک چمچہ چائے کے چمچے سے شہد اور5٪ برہ موم (Propolis) کا مخلوط
مندرجہ ذیل نکات پر توجہ دیں:
- شہد کی مکھی کے محصولات جب مکمل معدہ خالی ہو تو مصرف کیا جائے اور اس کے کھانے کے 2 گھنٹہ پہلے اور ادھا گھنٹہ بعد کسی بھی قسم کا مائعات(Liquids) کا استعمال نہ کیا جائے۔
- رات کا کھانا ہلکا (Light Dinner) کھائیے اور اس کے استعمال کا ٹائم دوپہر کو یا غروب آفتاب کے بعد رکھیئے(کم از کم 20 دن تک رات کے کھانے کا پروگرام اسی طرح ہونا چاہیئے)
- 20 روز کے بعد شہد اور برہ موم کا مخلوط (حکیم D شہد) کا استعمال روک  دیا جائے اور ایک مہینہ تک صرف شہد استعمال کیا جائے۔
- بہتر ہے ہر صبح اور رات کھانے کے چمچہ سے ایک چمچ شہد استعمال کیا جائے۔.
- مکمل سلامتی کے لئے معالجہ کا کورس 6 ماہ تک جاری رہنا چاہیئے۔اعر اس کے اثر پہلے ہفتہ سے ہی ظاہر ہونے لگے گیں۔احتمال ہے کہ 40 دن کے بعد کسی قسم کے درد کا احساس نہیں رہ جائے گا .
عمل انہضام(Digestion system) کی ایمرجنسی بیماریاں
اسهال(Diarrhea)،قبض اور وینکتتا (Poisoning) ایسے مواقع پر پہاڑی گرم اور سرد شہد مخلوط کیا جائے اور پہاڑی پھولوں کے شیرہ کے ساتھ (پھولوں کے شیرہ سے الرجی نہ ہونے کی بنا پر) دو سے دس دن تک بیماری کی شدت کے اعتبار سے استعمال کریں۔بیمار 48 گھنٹہ تک صرف اور صرف شہد ،پھولوں کا شیرہ اور پانی کا استعمال کرے۔اس کے بعد گوشت کا جوس اور پھلوں کا رس استعمال کرسکتا ہے۔بیمار صبح ،دوپہر اور رات دو قسم کے شہد کا مخلوط ہر ایک میں سے کھانے کے چمچے سے ایک چمچہ کھاےاور صبح سے دوپہر اور دوپہر سے رات تک میں کھانے کے چمچے سے ایک چمچہ پھولوں کا شیرہ ایک گلاس پانی کے ساتھ استعمال کریں۔
- لیکن پہلے دو دنوں میں پھولوں کے شیرہ کا استعمال مناسب نہیں ہے.
- شہد کھانے کے آدھے گھنٹہ بعد 2سے3 گلاس پانی پینا ضروری ہے.
شہد کی مکھی کے محصولات(Product) کے استعمال کے طریقے پر توجہ کرنے سے ہم جان لیں گے کہ ہم نے 2سے10 دن تک بہترین کھانا کھایا ہے اور اس مدت میں ہم نے عمل انہضام(Digestion system) سکون بخشا ہے۔

عمل انہضام(Digestion system) کی بیماریوں  کے علاج کے لئے شہد کا استعمال کیا جاسکتا ہے ۔ عمل انہضام(Digestion system) کی بیماریاں تین حصوں میں تقسیم ہوتی ہیں:
1. معدہ کی بیماریاں
2. اثني‌عشر(گرہنی)کی بیماریاں
3. آنت کی بیماریاں

نفخ اور اپھار ،رفلکس ،زخم ،چپکن اور آنتوں کی پیچش
ارگانیک پہاڑی شہد(Organic mountain honey) (پہاڑوں میں موجود مخصوص پھولوں کے شیرہ سے بنتا ہے) سے علاج کا کورس شروع ہوتا ہے۔

استعمال کرنے کا طریقہ مندرجہ ذیل ہے:
صبح:ایک کھانے کا چمچہ شہد اور ایک چمچہ چائے کے چمچےسے شہد اور5٪ برہ موم (Propolis) کا مخلوط  .
رات: دوکھانے کا چمچہ شہد اور ایک چمچہ چائے کے چمچے سے شہد اور5٪ برہ موم (Propolis) کا مخلوط
مندرجہ ذیل نکات پر توجہ دیں:
- شہد کی مکھی کے محصولات جب مکمل معدہ خالی ہو تو مصرف کیا جائے اور اس کے کھانے کے 2 گھنٹہ پہلے اور ادھا گھنٹہ بعد کسی بھی قسم کا مائعات(Liquids) کا استعمال نہ کیا جائے۔
- رات کا کھانا ہلکا (Light Dinner) کھائیے اور اس کے استعمال کا ٹائم دوپہر کو یا غروب آفتاب کے بعد رکھیئے(کم از کم 20 دن تک رات کے کھانے کا پروگرام اسی طرح ہونا چاہیئے)
- 20 روز کے بعد شہد اور برہ موم کا مخلوط (حکیم D شہد) کا استعمال روک  دیا جائے اور ایک مہینہ تک صرف شہد استعمال کیا جائے۔
- بہتر ہے ہر صبح اور رات کھانے کے چمچہ سے ایک چمچ شہد استعمال کیا جائے۔.
- مکمل سلامتی کے لئے معالجہ کا کورس 6 ماہ تک جاری رہنا چاہیئے۔اعر اس کے اثر پہلے ہفتہ سے ہی ظاہر ہونے لگے گیں۔احتمال ہے کہ 40 دن کے بعد کسی قسم کے درد کا احساس نہیں رہ جائے گا .
عمل انہضام(Digestion system) کی ایمرجنسی بیماریاں
اسهال(Diarrhea)،قبض اور وینکتتا (Poisoning) ایسے مواقع پر پہاڑی گرم اور سرد شہد مخلوط کیا جائے اور پہاڑی پھولوں کے شیرہ کے ساتھ (پھولوں کے شیرہ سے الرجی نہ ہونے کی بنا پر) دو سے دس دن تک بیماری کی شدت کے اعتبار سے استعمال کریں۔بیمار 48 گھنٹہ تک صرف اور صرف شہد ،پھولوں کا شیرہ اور پانی کا استعمال کرے۔اس کے بعد گوشت کا جوس اور پھلوں کا رس استعمال کرسکتا ہے۔بیمار صبح ،دوپہر اور رات دو قسم کے شہد کا مخلوط ہر ایک میں سے کھانے کے چمچے سے ایک چمچہ کھاےاور صبح سے دوپہر اور دوپہر سے رات تک میں کھانے کے چمچے سے ایک چمچہ پھولوں کا شیرہ ایک گلاس پانی کے ساتھ استعمال کریں۔

- لیکن پہلے دو دنوں میں پھولوں کے شیرہ کا استعمال مناسب نہیں ہے.
- شہد کھانے کے آدھے گھنٹہ بعد 2سے3 گلاس پانی پینا ضروری ہے.
شہد کی مکھی کے محصولات(Product) کے استعمال کے طریقے پر توجہ کرنے سے ہم جان لیں گے کہ ہم نے 2سے10 دن تک بہترین کھانا کھایا ہے اور اس مدت میں ہم نے عمل انہضام(Digestion system) سکون بخشا ہے۔

عورتوں کی بچہ دانی اور پیشاب کی نالیوں کو انفیکشن سے محفوظ رکھنے میں شھد کی تاثیر

زمرے: مقالات و پژوهش ها

انسان کے جسم کو خارج سے مرتبط رکھنے کا ایک بہترین ذریعہ پیشاب کی نالیاں ہیں کہ ہمیشہ جراثیم کے داخل ہونے کا خطرہ لگا رہتا ہے. عورتوں کے جسم میں نا سالم چیزوں کے جانے سے انفیکشن ہوتا ہے. اس بنا پر سورة مبارکہ عبس میں خدا فرماتا ہے: «انسان جو کچھ استعمال کرتا ہے اس کے بارے میں غور وخوض کرنا چاہیئے»عورتوں کو اپنے جنسی روابط(Sexual relations) اور حفظان صحت (Sexual health) کا زیادہ سے زیادہ خیال رکھنا چاہیئے. چنانچہ خداوند قرآن میں فرماتا ہے: « أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَاتُ ۔۔۔۔» یعنی «خداوند عالم نے پاکیزہ چیزوں کو تمہارے لئے حلال قرار دیا ہے اور ناپاک اور گندی چیزوں کو حرام قرار دیا ہے».
مردوں اور عورتوں دونوں جنسی روابط(Sexual relations)  میں خاص مسری بیماری اور ظاہری آلودگی و۔۔۔۔ کا خیال رکھیں کیونکہ بہت ساری مسری بیماریاں پیشاب کی نالیوں سے منتقل ہوتی ہیں .عورتیں اپنی صفائی ستھرائی اور سلامتی کا خیال رکھیں اور ماھانہ عادت کے دوران جنسی رابطہ (Sexual relations) کرنے سے پرہیز کریں. جیسا کہ خداوند عالم نے بہت ساری آیتوں میں اس مسئلہ کے طرف اشارہ کیا ہے۔ان آیات کی روشنی میں حفظان صحت اور صفائی کا خیال رکھنا ،کھانے کی قسم اور لباس کی طرف توجہ دینا ،نیز رفتار و گفتار۔۔۔۔۔۔۔ مرد و عورت کے روبط میں براہ راست اثر کرتے ہیں۔
جنسی رابطہ (Sexual relations) میں مرد اور عورت ایک دوسرے کے لئے گرم لباس کی طرح ہیں کہ پسندیدہ  37 ° کی حرارت میں ایک دوسرے کو ڈھانپتے ہیں . بہتر یہ ہے کہ ایک دوسرے کے لئے صاف ستھرا اور مناسب لباس فراہم کریں ،بہتر ہے ایسے رابطہ کے لئے حمام جائیں. اور مسری بیماری ہونے کی صورت میں جنسی رابطہ (Sexual relations) اس طرح ہو کہ ایک دوسرے کو  نقصان  نہ پہونچائیں.
عورتوں میں عام طور پر جزئی اور معمولی انفیکشن اور بچہ دانی کی تھیلی کا چھوٹا ہونا عادی ہے۔اور اس کا جنسی رابطہ (Sexual relations) پر کوئی اثر نہیں ہے  ۔بچہ دانی کی تھیلی کا چھوٹا ہونا بچہ دار ہونے میں کوئی مشکل ایجاد نہیں کرتا اور ولادت ہوجانے سے یہ بھی برطرف ہوجاتی ہے.  بڑے السر(cysts) ممکن ہے نامناسب جگہ پر واقع کی صورت میں نطفہ(Sperm) کے بچہ دانی تک پہونطنے سے مانع ہو۔ اور بعض مواقع پر السر(cysts) میں رساو ہونا موت کا باعث ہوتا ہے ۔
 (شہد، رویال ژلہ(Royal jelly)، برہ موم (Propolis)) سے مخلوط شیاف بتیوں (Suppository) کا استعمال اس کو ختم کرنے، چھوٹا کرنے یا السر(cysts) کے ترشحات کو بے اثر  بنانے میں مؤثر ہے. توجہ کیجیئے شافہ بتی  (Suppository) کے استعمال کے وقت ہاتھوں کو مکمل طورپر antiseptic کرلیں اور نامیاتی شہد(Organic Honey) کردستان لپیٹ کر عضو تناسل(Penis) پر پٹی باندھیں اور صاف ستھرے زیر جامہ(Clean Underwear) ڈھانپ دیں. بہتر ہے کہ یہ کام 7 دنوں تک کریں۔ شیاف بتی (Suppository) استعمال کرنے کا بہترین وقت رات کا وقت ہے کیونکہ جسم کی حرکت  بہت کم ہوجاتی ہے (شہد، رویال ژلہ(Royal jelly)، برہ موم (Propolis)) سے شیاف بتی (Suppository)  کے مخلوط  کا استعمال زخموں کے انفیکشن کو ختم کرنے ، السر(cysts) کو چھوٹا کرنے ،سوزش کو ختم کرنے اور زخم کو بہنے سے روکنے میں بیحد مفید اور مؤثر ہے. کبھی شیاف بتی (Suppository)  کے مخلوط   کے استعمال کے بعد شیاف بتی (Suppository)  کے ساتھ ترشحات اور مواد کے بہنے سے کھجلی اور سوزش و جلن بھی ہو سکتی ہے  کہ خارج ہونے کے مقام پر تھوڑا  کردستان کا شہد لگادینے اور اس کے ڈھانپ دینے سے سوزش اور جلن میں کافی کمی آجائے گی.اگر سوزش خارش کے ساتھ بار بار ہو رہی ہو تو جسم کی اس شیاف بتی (Suppository)سے الرجی کی علامت ہے. اس کے ساتھ رات کو شیاف بتی (Suppository) استعمال کرنے کے لئے کردستانی شہد کا بھی استعمال کریں . اسی طرح السر(cysts) کے صحیح ہونے کے لئے خالی پیٹ ہر صبح و شام حکیم  C اور سنجد کا شہد کھانے کے چمچے سے ایک چمچہ استعمال کیا جائے.
مردوں اور عورتوں میں پیشاب کے انفیکشن اور اس میں جلن کو ختم کرنے کے لئے اور پیشاب کی نالیوں میں سوزش کو ختم کرنے کے لئے ادرک کا شہد ہر 8 گھنٹہ پر کھانے سے پہلے چائے کے چمچے سے ایک چمچہ استعمال کریں. اسی طرح کسی گرم چیز کا رکھنا (جیسے اینٹ،گرم پانی کی تھیلی(Caches water heating) یا الکٹرونیک شال)نالیوں اور مثانہ(Bladder) پر رکھنے سے خون کی دوران زیادہ ہوجائے گی اور سوزش برطرف ہو جائے گی. علاج کے دوران صحیح و سالم اور تازہ کھانا استعمال کریں اور فوری کھانے(Instant foods) سے پرہیز کریں۔
بعض مواقع پر پیشاب کی نالیوں کا اچانک سرد ہو جانا یا پیشاب کی نالیوں کے باہری حصہ کی نظافت نہ کرنا بھی مشکل ساز ہوتی ہے۔ لحاظااچھی طرح دھونے اور ہر بار خشک کرنے سے اس طرح کی مشکل برطرف ہو جائے گی. پیشاب کی نالیوں میں سوزش اور جلن ظاہر ہونے کی اصلی وجہ انہیں موارد اور اسباب سے پیدا ہوتی ہے۔اگر مشکل گردہ سے متعلق ہو تو ادرک کا شہد کھانا شفایاب ہونے کے لئے بہت مناسب ہے. اور اگر اس سے بھی زیادہ مشکل ہو تو نقصان رسیدہ مقامات کی شنا خت کر کے مشکل برطرف کی جائے. ان مشکلات کا بہترین علاج شہد اور شہد کی محصولات(Bee products) کا استعمال اور مذکورہ نکات اور باتوں کی رعایت کرنا ہے۔.کنواری لڑکیوں میں السر(cysts) اور انفیکشن کا  علاج یہ ہے کہ تیار کردہ جڑواں مرحم (زخموں کے سلسلہ مہں بیان شدہ طریقہ سے)کا استعمال کیا جائے۔آنٹی سیپٹیک دوا کے ذریعہ انفیکشن کی جگہ  کو ہمیشہ  دھولیں اور اسے ہر بار دھونے کے بعد خشک کرنا ضروری ہے .
سنجد کا شہد عورتوں کے حاملہ ہونے ،ماھانہ عادت کے منظم ہونے،یائسہ(Menopause)ہونے سے پہلے حیض کا نقصان، عورتوں کے ھارمون کی تنظیم(Hormone regulation of femininity) اور استروژن(estrogen) کے کم و زیادہ سلسلہ میں بہترین علاج ہے۔ زنانہ ھورمون کے تنظیم نہ ہونے کی بنا پر اس سے پیدا ہونے والے سائڈ ایفیکٹ درج ذیل ہیں:  کولہوں کی درجہ حرارت،  شدید میگرن‌ ، ماهانه عادت میں تأخیر ، وقت سے پہلے یائسہ ہوجانا ، آواز کا موٹی ہوجانا، اضافی بالوں کا نکلنا. عسل سنجد کا ہر صبح و شام کھانے کے چمچے سے ایک چمچہ استعمال زنانہ ھارمون کے تنظیم نہ ہونے کی بنا پر ہونے والے سائڈ ایفیکٹ میں کمی آجاتی ہے .

علاج اور شفا بخشنے کے لئے شہد استعمال کرنے کا بہترین طریقہ

زمرے: مقالات و پژوهش ها

کھانے کے ساتھ شہد کا استعمال:شہد دیگر غذاؤں کی طرح جسم کے لئے ویٹامین اور نامعلوم اور ٹریس معدنیات کی کمی کو پورا کرتا ہے۔
پانی کے ساتھ شہد کا استعمال: بیماریوں کا علاج کرنے میں یہ طریقہ 70 ٪ مفید اور مؤثر ہے اور 30٪ موارد میں اس کا سائڈ افکٹ ہوتا ہے۔لیکن یہ بھی کوئی ضروری نہیں ہے۔
شہد کا کسی ملاوٹ کے بغیر استعمال شفا ہے
مکھن اور روٹی کے ساتھ ناشتہ میں شہد کا 10 دن تک استعمال جسمانی بنیادوں کو مضبوط کرتا اور جسم کے لئے ضروری ویٹامینوں کی تکمیل کرتا ہے ۔لیکن معدہ ،آنت ،گرہنی،وغیرہ جیسی بیماریوں میں اس کا کوئی خاص فائدہ نہیں ۔ اگر اتنی  مدت تک پانی کے ساتھ خالی پیٹ شہد کا استعمال کیا جائے تو معدہ ،آنت،گرہنی جیسی بیماریوں میں 50٪قوت بخش اثر ہوگا اور 30٪ میکروب اور جراثیم مارنے کا کام کرے گا۔
اگر خالی پیٹ صرف شہد استعمال کیا جائے تو مندرجہ ذیل نتائج حاصل ہوں گے:
- دو گھنٹے کے اندر میکروب کشی(Germicidal) میں اس کی تاثیر 100٪ ہوگی
- آنت ،معدہ اور گرہنی(اثنی عشر) جیسی بیماریوں کے کامل علاج کے لئے اس کا 6 ماہ استعمال کرنا ضروری ہوگا
- جسمانی کمزوری کے لحاظ سے جسم کی ساخت اور صحت کے لئے بیحد مقوی اور موثر ہے.
شہد کے استعمال کے اس طریقہ اور بیماری کی قسموں کو ملحوظ رکھیں تو پھر سائڈ ایفکٹ نہیں رہ جائے گا۔
توجہ رہے کہ شوگر اور ڈائبٹیس میں گرفتار مریض کے استعمال کا ہی طریقہ شاید نقصان دہ نہ ہو اور آسیب دیدہ عضو کی مدد سے مشکل حل ہو جائے

ارتباطی طریقے

دفتر قم کاپتہ:ایران - قم - بلوار محمد امین-بین کوچه 11و13
رابطہ نمبر: 00982532930344 - 00989127553030

  • دانشنامه شفاسنتر
  • فروشگاه عسل حکیم
  • جامعة علوم القرآن

    (function(i,s,o,g,r,a,m){i['GoogleAnalyticsObject']=r;i[r]=i[r]||function(){ (i[r].q=i[r].q||[]).push(arguments)},i[r].l=1*new Date();a=s.createElement(o), m=s.getElementsByTagName(o)[0];a.async=1;a.src=g;m.parentNode.insertBefore(a,m) })(window,document,'script','https://www.google-analytics.com/analytics.js','ga'); ga('create', 'UA-56303368-2', 'auto'); ga('send', 'pageview');